جنوبی ہند کی معروف اداکارہ شالینی پانڈے نے فلم انڈسٹری کے تاریک پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک افسوسناک واقعہ شیئر کیا ہے۔
2017 میں وجے دیوراکونڈا کے ساتھ فلم "ارجن ریڈی" سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ نے بتایا کہ کس طرح ایک ساؤتھ ہندی فلم کے ڈائریکٹر نے ان کی نجی زندگی میں مداخلت کی۔شالینی نے انٹرویو میں کہا، "میں فلم انڈسٹری میں بالکل نئی تھی اور میرے پیچھے کوئی فلمی پس منظر نہیں تھا۔ ایک دن جب میں اپنے وینٹی وین میں کپڑے بدل رہی تھی، تو ڈائریکٹر بغیر دستک دیے اندر آ گیا۔" اداکارہ نے اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف 22 سال کی تھیں اور اس تجربے کا کوئی علم نہیں تھا۔ لوگوں کی جانب سے ہمیشہ کہا جاتا تھا کہ "میٹھا بولو، کسی کو برا مت لگنے دو، ورنہ فلمیں نہیں ملیں گی"، لیکن جب ڈائریکٹر نے ایسا کیا، تو ان کا فطری ردعمل تھا کہ وہ چیخ پڑیں۔شالینی نے مزید بتایا کہ اس واقعے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں نے کہا کہ انہیں چیخنا نہیں چاہیے تھا۔ تاہم، شالینی کا کہنا تھا کہ "تمیز کا ہونا ضروری ہے۔
صرف اس لیے کہ میں نئی ہوں، آپ بغیر دستک کے اندر نہیں آ سکتے۔" اداکارہ کا ماننا تھا کہ اس ردعمل کے ذریعے انہوں نے اپنی حفاظت کے لیے ایک سرحد طے کی، حالانکہ اس سے انہیں غصے والی شخصیت سمجھا گیا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ جنسی تعصب اور بدتمیزی کا سامنا کرنے کے بعد، انہوں نے اپنی حدود طے کرنا سیکھ لیا ہے۔ اب وہ ایسے حالات کو بہتر طریقے سے ہینڈل کرنا جانتی ہیں۔شالینی پانڈے نے 2017 میں "ارجن ریڈی" سے شہرت حاصل کی تھی، اور اس کے بعد انہوں نے شبانہ اعظمی، جیوتیکا، اور نیمیشا ساجیان جیسے نامور اداکاروں کے ساتھ "ڈبہ کارٹل" جیسی معیاری فلموں میں کام کیا ہے۔