طالبان کا پھیلتا ہوا مدرسہ نظام خطے کے لئے سوالیہ نشان

شہزاد راجپوت
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد جہاں سیاسی اور سماجی ڈھانچہ یکسر تبدیل ہوا ہے وہیں سب سے گہرا اثر تعلیمی نظام پر پڑا ہے۔ جدید تعلیمی اداروں کی محدود سرگرمیاں، جامعات کی بندش، خواتین کی تعلیم پر پابندیاں اور اساتذہ کی بے روزگاری کے ساتھ ساتھ طالبان کا مدرسہ نظام غیر معمولی وسعت اختیار کر رہا ہے۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے لے کر بڑے شہروں تک نئے مدارس کا قیام اور پرانے دینی اداروں کی سرکاری سرپرستی ایک واضح رجحان بن چکی ہے۔طالبان قیادت مدارس کو اپنی فکری اور نظریاتی بنیاد کا ستون قرار دیتی ہے۔ ان کے مطابق دینی تعلیم نہ صرف اسلامی تشخص کے تحفظ کا ذریعہ ہے بلکہ ایک ایسا نظام بھی ہے جو نوجوان نسل کو ’’غیر اسلامی‘‘ اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ مدارس میں قرآن، حدیث، فقہ اور اسلامی تاریخ کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے جبکہ جدید سائنسی، سماجی اور فکری علوم کو ثانوی یا غیر ضروری تصور کیا جا رہا ہے تاہم تعلیم اور دانش کے حلقوں میں اس یک رْخی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسا تعلیمی ڈھانچہ جو صرف مذہبی علوم تک محدود ہو ، نوجوانوں کو عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ آج کی دنیا میں معیشت، ٹیکنالوجی، صحت اور تحقیق جیسے شعبے جدید تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر ایک پوری نسل ان علوم سے محروم رہی تو اس کے نتائج نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے تشویش ناک ہو سکتے ہیں۔ایک اور اہم پہلو فکری تنوع کا خاتمہ ہے۔ جب تعلیمی ادارے سوال کرنے، تحقیق کرنے اور مختلف آرا کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا نہ کریں تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ مدارس کا یہ تیزی سے پھیلتا ہوا نظام اگر تنقیدی سوچ سے خالی رہا تو اس سے انتہاپسندی اور فکری تنگ نظری کو تقویت ملنے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس کے اثرات ماضی میں افغانستان اور خطے نے بھگتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر بھی طالبان کے تعلیمی ماڈل پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ عالمی برادری یہ جاننا چاہتی ہے کہ آیا طالبان کا مدرسہ نظام نوجوانوں کو ایک پرامن، ذمہ دار اور معاشی طور پر فعال شہری بنانے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔ امداد، سفارتی تعلقات اور عالمی قبولیت جیسے معاملات بھی بڑی حد تک افغانستان کے تعلیمی مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ دینی تعلیم اپنی جگہ اہم ہے، مگر اسے جدید علوم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی تاریخ خود اس بات کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب دین اور دنیا کے علوم کو یکجا کیا تو علم، تحقیق اور تہذیب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ افغانستان کے لیے بھی واحد پائیدار راستہ یہی ہے کہ مدارس کے نصاب میں سائنس، ریاضی، سماجی علوم اور ٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے اور تعلیم کو تعمیرِ قوم کا ذریعہ بنایا جائے، نہ کہ محض نظریاتی تشکیل کا۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ مدارس ہونے چاہئیں یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیسی تعلیم دی جا رہی ہے اور اس کا مقصد کیا ہے۔ اگر تعلیم انسان کو سوچنے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کا راستہ نہ دکھا سکے تو وہ قوم کے مستقبل کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی۔ طالبان کے پھیلتے ہوئے مدرسہ نظام کے تناظر میں افغانستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں کیے گئے فیصلے آنے والی نسلوں کی سمت کا تعین کریں گے۔