تہران: ایران کے پاسداران انقلاب کے سیاسی شعبے کے نائب جنرل یداللہ جوانی نے عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی دستوں اور فوجی تنصیبات کو ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ایران کی جانب سے سخت اور ’’کچل دینے والے‘‘ فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق جنرل یداللہ جوانی نے اپنے بیان میں عرب ممالک کو ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں میں تعاون سے خبردار کیا۔ انہوں نے خاص طور پر کویت، بحرین اور اردن کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہی تو یہ ممالک ایران کی جوابی کارروائی کے ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے عرب ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی اڈے، اہلکار اور دیگر فوجی تنصیبات ہٹا دیں۔ ان کے مطابق ایران خطے میں موجود امریکی فوجی مراکز کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
ایران کا سخت فوجی ردعمل کا انتباہ
جنرل یداللہ جوانی نے خبردار کیا کہ اگر عرب ممالک نے امریکی فوجی موجودگی ختم نہ کی تو ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے ممکنہ ایرانی ردعمل کو ’’کچل دینے والا‘‘ قرار دیا۔ایرانی عہدیدار کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور اہلکار موجود ہیں۔
کویت، بحرین اور اردن کیوں اہم ہیں؟
کویت، بحرین اور اردن امریکا کے اہم علاقائی شراکت داروں میں شمار ہوتے ہیں اور تینوں ممالک مختلف نوعیت کے دفاعی اور سکیورٹی تعاون میں واشنگٹن کے ساتھ منسلک ہیں۔بحرین میں امریکی بحریہ کی ایک اہم تنصیب موجود ہے، جو خلیجی خطے میں امریکی بحری سرگرمیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔کویت بھی خطے میں امریکی فوجی موجودگی کا ایک اہم مرکز ہے اور وہاں امریکی فوجی دستوں اور دفاعی تنصیبات کا استعمال خطے میں امریکی دفاعی حکمت عملی کا حصہ رہا ہے۔اسی طرح اردن امریکا کے ساتھ قریبی دفاعی اور سکیورٹی تعاون رکھتا ہے۔ ملک میں امریکی فوجی اہلکاروں اور مختلف فوجی تنصیبات کی موجودگی خطے میں انسدادِ دہشت گردی اور دیگر دفاعی سرگرمیوں سے بھی منسلک رہی ہے۔
خطے میں تنازع پھیلنے کا خدشہ
ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار کی جانب سے ان تینوں ممالک کا نام لیے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔اگر ایران کی جانب سے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود رہنے کے بجائے ان ممالک کی سلامتی کو بھی متاثر کرسکتے ہیں جہاں امریکی فوجی موجود ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی عہدیدار کی تازہ دھمکی خطے میں جاری تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کی سفارتی کوششوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔ امریکی فوجی اڈوں پر کسی بھی بڑے حملے کی صورت میں امریکا کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان بھی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طرف امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعلقات برقرار رکھیں اور دوسری جانب ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی سے بچنے کی کوشش کریں۔