کراچی کے تاجر میر رضا قتل کیس، جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات شروع کردیں

کراچی کے تاجر میر رضا قتل کیس، جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات شروع کردیں

کراچی: کراچی کے تاجر میر رضا علی کے قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے جوڈیشل کمیشن نے باقاعدہ طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

 کمیشن نے کیس سے متعلق اہم فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے بیانات اور شواہد حاصل کرنے کا عمل شروع کردیا۔ذرائع کے مطابق میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر کو 28 اگست کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے سندھ حکومت کے فوکل پرسن کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے تاکہ کیس سے متعلق حکومتی مؤقف اور دستیاب ریکارڈ حاصل کیا جاسکے۔

جسٹس عمر سیال کمیشن کی سربراہی کریں گے
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے رواں ہفتے میر رضا علی قتل کیس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا تھا۔چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس عمر سیال کو جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کے لیے نامزد کیا ہے۔ کمیشن کا مقصد قتل کے واقعے سے متعلق حقائق کا تعین، تحقیقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ اور دستیاب شواہد کی روشنی میں معاملے کی مکمل جانچ کرنا ہے۔

گلستانِ جوہر سے لاش ملی تھی
میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق انہیں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔واقعے کے بعد پولیس نے قتل کی تحقیقات شروع کردی تھیں اور مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جارہے تھے۔ تاہم کیس کی تحقیقات کے حوالے سے مزید شفافیت اور حقائق سامنے لانے کے لیے سندھ حکومت کی ہدایت پر بعد ازاں عدالتی کمیشن قائم کیا گیا۔

اہلِ خانہ اور وکیل کا مؤقف بھی سنا جائے گا
جوڈیشل کمیشن کی جانب سے میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر کو طلب کیے جانے سے کیس میں ان کا مؤقف براہِ راست ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔کمیشن سندھ حکومت کے فوکل پرسن سے بھی معاملے سے متعلق سرکاری ریکارڈ اور تحقیقات کی تفصیلات حاصل کرے گا۔ اس عمل کے ذریعے پولیس کی جانب سے اب تک کی جانے والی تحقیقات، دستیاب شواہد اور واقعے سے متعلق مختلف دعوؤں کا جائزہ لیا جاسکے گا۔جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کا آغاز میر رضا علی قتل کیس میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔ کمیشن کی جانب سے فریقین کے بیانات، سرکاری ریکارڈ اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کیس کے مختلف پہلوؤں پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔