چھ ستمبر عزم قربانی اور دفاع وطن کا دن

آپا منزہ جاوید 
ستمبر کی آمد پاکستان کی تاریخ کے ایک ایسے روشن باب کی یاد دلاتی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا چھ ستمبر صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ یہ جذب? ایمان حب الوطنی قربانی بہادری اور قومی اتحاد کی علامت ہے یہ وہ دن ہے جب پوری قوم نے ثابت کر دیا کہ وطن کی حفاظت کے لیے صرف ہتھیاروں کی طاقت کافی نہیں ہوتی بلکہ مضبوط ایمان بلند حوصلہ اور اپنی سرزمین سے بے پناہ محبت قوموں کو ناقابل شکست بنا دیتی ہے
چھ ستمبر ان شہیدوں اور غازیوں کو سلام پیش کرنے کا دن ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر دیا مگر وطن کی عزت آزادی اور سلامتی پر آنچ نہیں آنے دی پاکستان کے بہادر سپوتوں نے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سرزمین کی حفاظت کے لیے اس قوم کا ہر فرد اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لیے تیار ہے
1965ء￿  کی جنگ ہماری قومی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے جب دشمن نے پاکستان کی سرحدوں کی طرف میلی نظر سے دیکھا تو ہماری افواج پاکستان سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئیں ہمارے جوانوں نے تعداد اور وسائل سے زیادہ اپنے جذبے ایمان اور شجاعت پر بھروسا کیا میدان جنگ میں گونجنے والے نعر? تکبیر نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے اور دنیا نے دیکھا کہ ایک زندہ قوم اپنے وطن کے دفاع کے لیے کس طرح متحد ہو جاتی ہے
یوم دفاع ہمیں صرف جنگ کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ ہمیں قومی اتحاد کا سبق بھی دیتا ہے اس وقت پاکستان کے ہر شہر ہر گاؤں اور ہر گھر میں ایک ہی جذبہ تھا کوئی فوجی تھا کوئی زخمیوں کی خدمت کر رہا تھا کوئی اپنے جوانوں کے لیے دعائیں کر رہا تھا اور کوئی اپنے حصے کا کام کرکے وطن کے دفاع میں شریک تھا قوم اور فوج کے درمیان محبت اور اعتماد کا وہ رشتہ پاکستان کی طاقت بن گیا
ہمارے شہیدوں کی قربانیاں ہم سے ایک سوال بھی کرتی ہیں کیا ہم نے اس پاکستان کی قدر کی جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں کیا ہم اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی ترقی اور خوش حالی کے لیے کام کرتے ہیں
وطن صرف سرحدوں کا نام نہیں ہوتا وطن اپنے لوگوں اپنی تہذیب اپنی زبان اپنی شناخت اور اپنے مستقبل کا نام ہوتا ہے پاکستان کی حفاظت صرف سرحدوں پر موجود سپاہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا فرض ہے ایک استاد اپنے علم سے وطن کا دفاع کرتا ہے ایک ڈاکٹر اپنی خدمت سے ایک کسان اپنی محنت سے ایک مزدور اپنے پسینے سے اور ایک طالب علم اپنی تعلیم اور کردار سے ملک کے مستقبل کو مضبوط بناتا ہے
آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ دفاع وطن کا مفہوم صرف جنگ کے دنوں تک محدود نہیں اپنے ملک کو بدعنوانی ناانصافی نفرت جھوٹ اور انتشار سے بچانا بھی دفاع وطن ہے اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرنا بھی پاکستان سے محبت ہے قومی املاک کی حفاظت کرنا قانون کا احترام کرنا تعلیم حاصل کرنا اور آنے والی نسلوں کو اچھا انسان بنانا بھی وطن کی خدمت ہے
ہمیں اپنے بچوں کو چھ ستمبر کی تاریخ ضرور بتانی چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ آزادی اور امن کتنی بڑی نعمتیں ہیں انہیں اپنے شہیدوں کے بارے میں بتایا جائے ان کی قربانیوں سے روشناس کرایا جائے اور ان کے دلوں میں پاکستان سے محبت پیدا کی جائے جو قومیں اپنے محسنوں اور شہیدوں کو بھول جاتی ہیں وہ اپنی تاریخ سے محروم ہو جاتی ہیں
ہمارے شہید زندہ قوم کے وہ روشن چراغ ہیں جن کی روشنی آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتی رہے گی کسی ماں نے اپنا بیٹا وطن پر قربان کیا کسی بہن نے اپنے بھائی کو الوداع کہا کسی بیوی نے اپنے شوہر کی جدائی برداشت کی اور کسی بچے نے اپنے باپ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ان قربانیوں کے پیچھے صرف ایک جذبہ تھا پاکستان
آج جب ہم چھ ستمبر مناتے ہیں تو ہمیں صرف پرچم لہرانے اور قومی نغمے سننے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے آپ سے عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو مضبوط محفوظ خوش حال اور باوقار بنانے میں اپنا کردار ضرور ادا کریں گے
ہماری افواج کے جوان آج بھی دن رات سرحدوں پر کھڑے ہیں تاکہ ہم اپنے گھروں میں سکون سے زندگی گزار سکیں شدید گرمی ہو یا سخت سردی بلند پہاڑ ہوں یا دشوار گزار علاقے ہمارے محافظ اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر وطن کی حفاظت میں مصروف رہتے ہیں ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر لازم ہے
چھ ستمبر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ جب قوم متحد ہو جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر پاکستان کو مقدم رکھنا ہوگا ہماری پہچان ہماری عزت اور ہمارا مستقبل اسی وطن سے وابستہ ہے
آئیے اس یوم دفاع پر اپنے شہیدوں کو سلام پیش کریں اپنے غازیوں کو خراج تحسین دیں اور اپنی بہادر افواج پاکستان کے لیے دعا کریں ساتھ ہی یہ عہد بھی کریں کہ ہم اپنے کردار اپنی محنت اور اپنی ذمہ داریوں کے ذریعے پاکستان کو مضبوط بنائیں گے
یہ وطن ہمیں قربانیوں کے بعد ملا ہے اور اس کی حفاظت بھی قربانی محبت اور ذمہ داری سے ہی ممکن ہے
چھ ستمبر کا دن ہمیں ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ وطن کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی وطن کی حفاظت قوم کے کردار اتحاد اور محبت سے بھی ہوتی ہے
پاکستان زندہ باد
پاکستان پائندہ باد