آپا منزہ جاوید
عشرہ ذوالحجہ اسلامی سال کے وہ مبارک اور مقدس دن ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار فضیلتوں اور رحمتوں سے نوازا ہے۔ یہ دن عبادت، ذکر، دعا، توبہ، قربانی اور اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کے دن ہیں۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ان دنوں کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ سورہ فجر میں فرماتے ہی’’قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔’’ (سورہ الفجر: 1-2)
مفسرین کے مطابق ان دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جن میں کی گئی عبادت اللّٰ? تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوتی ہے۔ رسول اللّٰ? ? نے فرمایا کہ اللّٰ? کے نزدیک کسی دن کا نیک عمل ان دس دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب نہیں۔ صحاب? کرام? نے عرض کیا کہ کیا جہاد بھی نہیں؟ آپ ? نے فرمایا کہ جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور کچھ واپس نہ لایا۔
اللہ تعالیٰ سورہ الحج میں فرماتے ہیں:’’اور مقررہ دنوں میں اللّٰ? کا نام یاد کریں۔‘‘ (سورہ الحج: 28)
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ‘‘ایامِ معلومات’’ سے مراد ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔
یہ عشرہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنی سب سے عزیز چیز یعنی اپنے بیٹے کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہ کیا۔ یہ صرف ایک باپ کی آزمائش نہیں تھی بلکہ ایمان، اطاعت، وفاداری اور اللہ کی رضا کے سامنے مکمل جھک جانے کی عظیم مثال تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر اور رضا کا ایسا مظاہرہ کیا جو قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ بن گیا۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’پھر جب دونوں نے حکم مان لیا اور ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا۔’’ (سورہالصافات: 103)
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مقابلے میں دنیا کی کوئی محبت بڑی نہیں۔ قربانی دراصل اسی جذبے کا نام ہے کہ انسان اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنی محبتوں اور اپنی پسند کو للہ کے حکم پر قربان کر دے۔
آج بہت سے لوگ قربانی کو صرف ایک رسم سمجھتے ہیں، حالانکہ قربانی کا اصل مقصد تقویٰ اور اخلاص ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں’’اللہ تک نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔’’ (سورہ الحج: 37)
اس آیت میں واضح کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اہمیت جانور کی نہیں بلکہ نیت، اخلاص اور دل کے تقویٰ کی ہے۔ اگر انسان قربانی تو کرے لیکن دل میں غرور، ریاکاری، تکبر، حسد اور نفرت موجود ہو تو وہ قربانی اپنی روح کھو دیتی ہے۔ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے اندر موجود برائیوں کو بھی ذبح کریں، اپنے غرور کو ختم کریں، لالچ چھوڑیں، جھوٹ، دھوکہ، ظلم اور نفرت سے بچیں اور اپنی زندگی کو اللّٰ? کے احکامات کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔
عشرہ ذوالحجہ عبادت کا بہترین موقع ہے۔ ان دنوں میں نمازوں کی پابندی، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، صدقہ و خیرات، استغفار اور دعا کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ یومِ عرفہ کا روزہ بھی بہت فضیلت رکھتا ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق یہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔’’ (سورہ البقرہ: 148)
قربانی کا ایک اہم پہلو غریبوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا بھی ہے۔ اسلام صرف عبادت کا نہیں بلکہ انسانیت کا بھی دین ہے۔ عیدالاضحیٰ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں۔ ایسے لوگ جو سارا سال گوشت خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، قربانی کے دن ان تک خوشی پہنچتی ہے یہی اسلام کی خوبصورتی ہے کہ وہ عبادت کے ساتھ معاشرتی ہمدردی اور مساوات بھی سکھاتا ہے
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں:’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔’’ (سورہ البقرہ: 195)
آج کا دور مادہ پرستی، خودغرضی اور نفسانفسی کا دور بن چکا ہے لوگ دولت، شہرت اور دنیاوی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہوئے انسانیت اور رشتوں کو بھولتے جا رہے ہیں ایسے وقت میں قربانی کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا میں ہے اگر ہم اپنے دلوں میں رحم، محبت، ایثار اور تقویٰ پیدا کر لیں تو ہمارا معاشرہ امن اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کی اصل روح کو سمجھیں۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، اپنی برائیوں، اپنی نفرتوں اور اپنی انا کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا نام ہے اگر ہمارا دل بدل جائیہمارا کردار سنور جائے اور ہماری زندگی میں تقویٰ آ جائے تو یہی حقیقی قربانی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عشرہ ذوالحجہ کی برکتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے ‘اخلاص کے ساتھ قربانی کرنے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت و وفاداری سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔