وطن کے دفاع کی لکیر

مہر اشتیاق احمد

ہماری پاک افواج کو دنیا کی نمبر1 افواج ہونے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ مسلسل کئی برسوں سے برقرار ہے۔ لیکن کچھ لوگ خلاف بیان دیتے ہیں۔ انھیں تو اپنی پاک افواج پر فخر ہونا چاہیے کہ یہ ہم پر اللہ پاک کا خاص کرم ہے کہ انکے سائے میں ہم راہ رہے ہیں ۔ انٹیلیجنس ایجنسیاں کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں۔ یہ کسی بھی فوج کے وہ خفیہ ہاتھ ہوتے ہیں۔ جو جنگ شروع ہونے سے پہلے ایک نا دیکھی جانے والی جنگ لڑ چکے ہوتے ہیں۔ گویا کہ کسی بھی ملک کی جیت اور ہار کا دارو مدار اس کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مرہون منت ہوتا ہے۔ گذشتہ 20 سالوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کارگردگی آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ 18،000 دہشت گرد مارے گئے۔ 1100 القاعدہ کے دہشت گرد گرفتار یا ہلاک ہوئے۔ 1237 ملٹری آپریشنز ہوئے۔ بین الاقوامی دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ( 70 ممالک کے ساتھ انٹیلیجنس شیئرنگ) ہوئی۔ دراندازی کو روکنے کے لئے بارڈر باڑ لگانے کا عمل شروع کیا گیا۔جس سے دہشت گردی کے حملوں میں زبردست کمی واقع ہوئی۔ 2013 سے 2020 میں دہشت گردی میں86  کمی آئی( 2019 کے مقابلہ میں 2020 میں دہشت گردی میں 45. کمی واقع ہوئی )۔ 2009 کے بعد سے خودکش بم دھماکے میں 97 کمی واقع ہوئی۔ دہشت گردی کے سنگین ترین واقعات میں 2013 میں سے 2020 تک 90  پرسنٹ کمی واقع آئی۔ سیکیورٹی فورسز نے 2020 میں دہشت گردی کے 50 فیصد خطرات سے ملکِ پاکستان کو بچایا لیا۔ 2017 کے دوران شروع ہونے والے آپریشن ردالفساد میں 371،000 انٹیلیجنس پر مبنی آپریشن ( 50 بڑے آپشنز ) کیے گئے۔ وطن دشمنوں سے 72227 ہتھیار 50 لاکھ امیونیشن اور ساڑھے 4 سو ٹن بارود برآمد کیا گیا۔ بارڈر ایریا کی سیکیورٹی میں ناقابلِ یقین بہتری لائی گئی۔ 2600 کلومیٹر پاک افغان سرحد میں سے 83 ایریا کو محفوظ بنایا گیا۔ 950 کلومیٹر طویل پاکستان ، ایران پر باڑ لگانے کا کام مکمل ہو گیا۔ پاک ایران بارڈر مینجمنٹ کی وجہ سے ملک کے ریونیو میں 33 فیصداضافہ ہوا۔ 1068 میں سے 482 سرحدی قلعے تعمیر کئے گئے۔ خیبر پختونخواہ کے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن کے بعد سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 55 اور IED دھماکوں میں 16 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ بلوچستان میں صحت ، تعلیم ، زراعت اور انفراسٹرکچر کے احاطہ میں 601 ارب روپے کے لاگت سے 199 منصوبوں پہ کام کام جاری کیا گیا۔ جبکہ کے پی پاکستان میں 311 ارب روپے کے 831 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہوا۔ جنوری 2021 سے لے کر اب تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جس دن پاکستان کے طول و عرض میں رات گئے تک خفیہ انٹیلجنس بیسڈ آپریشنز نہ ہوئے ہوں ۔ جس میں لاتعداد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران 83،000 پاک افواج کے جوانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔