بھارت کی شمالی ریاستوں میں حالیہ موسلا دھار بارشوں اور شدید سیلابی صورتحال نے عوام کی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دریائے جمنا خطرے کے نشان سے بلند ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے پانی گھروں اور سڑکوں میں داخل ہو گیا ہے۔
سیلاب کی شدت اور متاثرین:
بھارتی پنجاب میں حالیہ تاریخ کے بدترین سیلاب کے باعث ہزاروں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔اگست کے دوران سیلاب سے 29 افراد ہلاک اور تقریباً 2.5 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔تقریباً 940 مربع کلومیٹر زرعی زمین بھی پانی تلے چلی گئی، جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مقبوضہ کشمیر:
مقبوضہ کشمیر میں دو ہفتوں کے دوران 50 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
حکام اور موسمیاتی پیش گوئیاں:
بھارتی محکمۂ موسمیات نے شمالی علاقوں میں 7 ستمبر تک مزید شدید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔کئی ریاستوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے تاکہ ہنگامی اقدامات کیے جا سکیں اور عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔
زرعی اور سماجی اثرات:
سیلاب کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، جس سے کسان شدید متاثر ہوئے ہیں۔متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث مقامی لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف انسانی زندگیوں بلکہ اقتصادی اور زرعی شعبوں پر بھی سنگین اثر ڈال رہی ہے، اور مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث خطرہ برقرار ہے۔