ویب ڈیسک: بھارت کی سیاست میں بڑے ہلچل کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ معروف جریدے دی وائر نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی جوڑی کے اقتدار کا سورج ڈھلنے لگا ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اندرونی انتشار اور بغاوت کی لپیٹ میں آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بی جے پی اگرچہ 15 ریاستوں میں حکومت کر رہی ہے، لیکن عوامی حمایت تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ معاشی ناکامیاں، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی تقسیم عوامی عدم اطمینان میں اضافہ کر رہی ہیں، جبکہ حکومت کی سفارتی پالیسیوں میں بھی واضح کمزوریاں سامنے آ رہی ہیں۔دی وائر کے مطابق مودی سرکار نے ای ڈی، سی بی آئی اور انکم ٹیکس کو سیاسی مخالفین کو دبانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ ان اداروں کا سہارا لے کر منتخب حکومتوں کو گرانے اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا کو الیکشن کمیشن کی تقرری کمیٹی سے ہٹانا مودی حکومت کا ایک انتہائی متنازع قدم تھا، جس نے آئینی خود مختاری اور شفاف انتخابات پر عوامی اعتماد کو متزلزل کر دیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق، 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی 60 سے زائد نشستوں پر شکست اور بہار کے حالیہ ضمنی انتخابات نے مودی حکومت کی گرفت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ دی وائر کے مطابق بہار کے انتخابات بی جے پی کے لیے "موت یا زندگی" کا امتحان ہوں گے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی کا "میک انڈیا گریٹ اگین" نعرہ ناکام ہو چکا ہے، بھارت کی عالمی سطح پر پوزیشن کمزور ہوئی ہے، چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات دباؤ کا شکار ہیں جبکہ پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔دوسری جانب کانگریس رہنما راہول گاندھی عوامی سطح پر ایک بار پھر نمایاں ہو گئے ہیں۔ ان کی "بھارت جوڑو یاترا" نے عوام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے اور انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی نے مودی سرکار کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بی جے پی کے مضبوط قلعے بھی آئندہ برسوں میں ہل سکتے ہیں اور بھارت کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔