آئی ایم ایف کا حکومت سے فیول ریلیف اسکیم ختم کرنے کا مطالبہ

آئی ایم ایف کا حکومت سے فیول ریلیف اسکیم ختم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: پیٹرول سبسڈی اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سے متعلق پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات میں بعض اہم معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔

حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف نے گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اور ہدفی سبسڈی کے نظام پر تیزی سے پیش رفت پر زور دیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فیول ریلیف اسکیم جاری ہے۔ یہ اسکیم 17 ستمبر 2026 کو شروع کی گئی تھی اور بعد میں اس میں مزید توسیع اور سہولتیں بھی دی گئیں۔آئی ایم ایف کی جانب سے عمومی یا کراس سبسڈی کے بجائے مستحق صارفین کو براہِ راست اور ہدفی ریلیف دینے کے طریقہ کار پر زور دیا جا رہا ہے۔ گیس سیکٹر کے حوالے سے آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھی صارفین کو ہدفی معاونت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ تقریباً 3.6 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں تقریباً 1.8 ٹریلین روپے اصل واجبات جبکہ تقریباً اتنی ہی رقم سود اور تاخیر سے ادائیگی کے سرچارجز کی مد میں شامل ہے۔

حکومت نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے انتظام کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کی ہیں، جن میں گیس کمپنیوں کے ٹیرف ڈیفرنس کلیمز اور توانائی کے شعبے کی بعض کمپنیوں کے منافع کو استعمال کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف نے بعض تجاویز پر مالیاتی اثرات کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے پاکستان کی جانب سے حالیہ عرصے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے انتظام اور ملک میں ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کو سراہا ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ مذاکرات میں گیس سیکٹر میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور سبسڈی کو زیادہ ہدفی بنانے کے معاملات اہم موضوعات ہیں۔ فریقین کے درمیان آئندہ ہفتے پالیسی سطح پر مزید مشاورت متوقع ہے۔