محمد عثمان،ساتھی قیدیوں نے محمد اشرف اور فلک شیر پر حملہ کیا،اشرف ہسپتال میں چل بسا ،دو کی حالت نازک،جھگڑا برتن گم ہونے پر ہوا،انکوائری کمیٹی قائم
لاہور(کرائم رپورٹر) سنٹرل جیل لاہور میں قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ایک قیدی جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ کوٹ لکھپت میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کامران مقبول کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔کوٹ لکھپت جیل میں قیدی کی ہلاکت،محکمہ داخلہ پنجاب نے 3 ڈی آئی جیز پر مشتمل انکوائری کمیٹی قائم کردی۔ایف آئی آر کے مطابق دو روز قبل شام ساڑھے سات بجے جیل کے اندر کمرہ جات میں دو گروپوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ ایک گروپ میں محمد اشرف اور فلک شیر جبکہ دوسرے گروپ میں محمد عثمان عرف شانی، جاوید اقبال اور آصف محمود شامل تھے۔قیدیوں کے درمیان جھگڑا کھانے کے برتن گم ہونے کے معاملے پر شروع ہوا۔ محمد عثمان اور اس کے ساتھی قیدیوں نے مبینہ طور پر اسٹیل کے چمچ سے بنائے گئے تیز دھار آلے سے محمد اشرف اور فلک شیر پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہوگئے۔زخمی قیدیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے جیل ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے تشویشناک حالت کے باعث دونوں کو جنرل ہسپتال لاہور منتقل کردیا گیا جہاں محمد اشرف زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ فلک شیر تاحال زیر علاج ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق قیدی محمد اشرف تھانہ مانگا منڈی میں درج قتل کے مقدمے میں جیل میں قید تھا، جبکہ زخمی قیدی فلک شیر تھانہ فیکٹری ایریا میں درج منشیات کے مقدمے میں قید ہے۔پولیس نے واقعہ پر تینوں نامزد قیدیوں محمد عثمان عرف شانی، جاوید اقبال اور آصف محمود کے خلاف
قتل اور اقدام قتل سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا