وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاناما کے وزیر خارجہ ہاویئر ایڈورڈو مارٹنز اچا واسکیز سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں انہوں نے بھارت کی حالیہ اشتعال انگیز کارروائیوں اور پاکستان کے خلاف اس کے غیر قانونی اقدامات پر بات چیت کی۔
اسحاق ڈار نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے سے الگ ہونے کے اعلان اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں پاناما کے وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔وزارت خارجہ کے مطابق، اسحاق ڈار نے پاناما کے وزیر خارجہ کو بتایا کہ بھارت کی یہ سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کے خلاف ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے بھارت کے اشتعال انگیز پراپیگنڈے کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کے مترادف قرار دیا۔
پاناما کے وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ پر تشویش کا اظہار کیا اور دونوں فریقوں کو تحمل سے کام لینے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ملکوں کو تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی پالیسیوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔