ویب ڈیسک:سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اعجاز چودھری کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اعجاز چودھری نے عوام کو اکسانے میں کردار ادا کیا اور مبینہ طور پر سازش کا بھی حصہ رہے۔ تاہم جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ’’اگر اعجاز چودھری کے خلاف کیس اتنا ہی مضبوط تھا تو اسے فوجی عدالت میں کیوں نہیں لے جایا گیا؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ویسے بھی تو 600 افراد کو فوجی عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔‘‘
جسٹس نعیم اختر نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’ضمانت کو سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘‘پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اعجاز چودھری کو 11 مئی 2023 سے گرفتار رکھا گیا ہے۔دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اعجاز چودھری کی ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ ٹرائل کورٹ میں ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائیں۔