سپریم کورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کی معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا اور دونوں کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے دونوں کو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے قرار دیا کہ دونوں کی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک مؤثر رہے گی۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانت کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں معاملہ ابھی زیر سماعت ہے اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے فریقین کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے تھے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا کی معطلی کا متعلقہ عدالتی فورم اسلام آباد ہائیکورٹ ہے اور ہائیکورٹ نے پراسیکیوشن کو آخری موقع بھی دے رکھا ہے۔اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی بار بار التوا پر سوالات اٹھائے اور استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے سابق حکم کے بعد مقدمے میں کیا پیش رفت ہوئی۔وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے 12 مئی کو ہائیکورٹ کو دو ہفتوں میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت کی تھی، تاہم مقدمے کی سماعت متعدد مرتبہ ملتوی ہوتی رہی۔ وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس بھی عدالت کے سامنے پیش کیں۔
فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ جلد سماعت کی درخواست بھی ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے مسترد کردی تھی اور ہائیکورٹ میں مقدمے کی کارروائی کے دوران متعدد مرتبہ التوا ہوا۔سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، اس لیے عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہیں بھی عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔ جسٹس افغان نے کہا کہ وکیل اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد کو بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے پہلے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل سننے کا فیصلہ کیا۔فیصل صدیقی نے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ایک ریمارک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کے غیرضروری التوا کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی کے مقدمے میں بھی متعدد بار تاریخیں دی گئیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 8 ستمبر کو ایمان مزاری اور ہادی علی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر کارروائی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے پراسیکیوٹر کی عدم موجودگی کے باعث 23 ستمبر تک ملتوی کی تھی۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے دونوں کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا اور ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق دونوں کو ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ مقدمہ سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ہے جس میں ٹرائل کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزائیں سنائی تھیں، جبکہ دونوں نے ان فیصلوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔