فرانس نے یورپ کی سب سے بڑی دفاعی و اسلحہ نمائش ’یورو ساٹوری‘ (Eurosatory) میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے کا امکان ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق فرانسیسی حکومت نے باضابطہ طور پر یہ فیصلہ اسرائیل کی وزارتِ دفاع کو آگاہ کر کے کیا ہے۔ اس پابندی کے تحت اسرائیل کو پیرس میں ہونے والی اس نمائش میں اپنے دفاعی نظام، ہتھیاروں اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ دفاعی نمائش رواں ماہ کے آخر میں پیرس میں منعقد ہونا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اور دفاعی ٹیکنالوجی نمائش تصور کیا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ممالک اپنی جدید عسکری ٹیکنالوجی پیش کرتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے اپنی دفاعی صنعت کے لیے ایک منفی پیش رفت قرار دیا ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی حکام کا مؤقف ہے کہ نمائش میں شرکت ہمیشہ طے شدہ اصولوں اور سیکیورٹی ضوابط کے تحت ہی دی جاتی ہے، اور اسی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف دفاعی صنعت میں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں بلکہ فرانس اور اسرائیل کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔