یورپ کو دفاعی خودمختاری بڑھانی ہوگی، جرمنی کے ممکنہ چانسلر کی تنبیہ

یورپ کو دفاعی خودمختاری بڑھانی ہوگی، جرمنی کے ممکنہ چانسلر کی تنبیہ

برلن: جرمنی کے ممکنہ چانسلر فریڈرش مرز نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے دوران جان بوجھ کر کشیدگی کو ہوا دی۔

ٹرمپ کا رویہ غیر متوقع اور غیر مددگار تھا: مرز
مرز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں ٹرمپ کا رویہ غیر متوقع اور یوکرین کے لیے نقصان دہ تھا۔ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے زیلنسکی کو جھڑک دیا اور کہا کہ وہ امریکی مدد کے لیے زیادہ "شکر گزار" بنیں اور روس کے ساتھ امن معاہدہ کریں۔مرز کے مطابق، یہ محض زیلنسکی کے الفاظ پر فوری ردعمل نہیں تھا، بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام لگتا ہے جو کہ یوکرین اور یورپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

یورپ کو اپنی سیکیورٹی کی زیادہ ذمہ داری لینا ہوگی
مرز نے خبردار کیا کہ یورپ کو مستقبل میں اپنی سیکیورٹی کے لیے زیادہ خود مختار پالیسی اپنانا ہوگی کیونکہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا:"ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی کہ امریکہ یورپ میں موجود رہے، لیکن ہمیں اپنی دفاعی حکمت عملی پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔"
یوکرین کے لیے جرمن فوجی امداد پر اختلافات
مرز نے یوکرین کے لیے جرمن حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیف کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے "ٹارس میزائل" فراہم کرنے کے حامی ہیں، جنہیں روس کے اندر اہداف پر حملے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاہم، موجودہ جرمن چانسلر اولاف شولز نے ٹارس میزائلوں کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ اس سے روس کے ساتھ براہ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جرمنی، یوکرین کا بڑا حمایتی
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جرمنی، یوکرین کے لیے امریکہ کے بعد سب سے بڑا امدادی فراہم کنندہ ہے اور اس نے 10 لاکھ سے زائد یوکرینی مہاجرین کو بھی پناہ دی ہے۔