صرف مرغی کا گوشت سستا--باقی اشیاء کیوں نہیں؟

کاشف بٹ
آجکل بازار میں مرغی کی قیمت چار سو روپے فی کلو کے قریب آگئی ہے۔ عوام نے سکھ کا سانس لیا، جیسے زندگی نے عارضی ہی سہی مگر کوئی ریلیف دے دیا ہو۔ مگر یہ سستی دراصل خوشحالی کی علامت نہیں بلکہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ بارڈر بند ہوا تو مرغی سستی ہوگئی — اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے، یہی مرغی پھر سات سو روپے سے اوپر اْڑان بھرے گی۔فغانستان میں ریٹ زیادہ ملنے کی وجہ سے ٹرکوں کے ٹرک مرغی وہاں روانہ ہو جاتے ہیں، اور یہاں منڈیوں میں قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں آنا چاہیے کہ ہم اپنی ضروریات پوری کیے بغیر دوسروں کو بانٹنے کا دعویٰ کیوں کرتے ہیں؟ جب اپنی عوام کے لیے مرغی، آٹا، چینی اور پیاز تک مہنگے ہو جائیں تو پھر دوسروں کی مدد کے نام پر یہ سخاوت دراصل خود پر ظلم کے مترادف ہے۔یہ المیہ صرف مرغی تک محدود نہیں۔ کبھی آٹا سستا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے درآمدی پابندی، کبھی چینی کی قیمت گرتی ہے تو اس کے پیچھے کوئی سرکاری آپریشن۔ گویا عام آدمی کے لیے ریلیف صرف تب ہی ممکن ہے جب حالات خراب ہوں۔ یہ کیسی معیشت ہے جہاں عوام کی خوشی امن سے نہیں بلکہ بحران سے جڑی ہو؟اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو بیرونی حالات پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔ پیداوار بڑھائی جائے، منڈی کا توازن برقرار رکھا جائے، اور سب سے بڑھ کر منافع خور مافیا کو لگام دی جائے۔ کیونکہ اگر سستی صرف بارڈر بند ہونے سے ممکن ہے، تو یہ ترقی نہیں بلکہ ایک طنز ہے — ہمارے نظام، ہماری معیشت، اور ہماری ترجیحات پر۔سوال تو یہ ہے کہ کیا سستی مرغی کے لیے عوام کو ہمیشہ کسی نئی کشیدگی، بحران یا بارڈر بند ہونے کا انتظار ہی کرنا پڑے گا؟