مزمل حسین چیمہ
پاکستان میں جب بھی مہنگائی بڑھتی ہے، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے یا آئی ایم ایف کا نام سامنے آتا ہے تو پورا سیاسی اور عوامی غصہ سیدھا وفاقی حکومت پر نکالا جاتا ہے۔ اسلام آباد کو نااہل، بے حس اور عالمی مالیاتی اداروں کا غلام قرار دے دیا جاتا ہے، مگر اس پوری بحث میں ایک بنیادی حقیقت کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے کہ آج کا پاکستان وہ پاکستان نہیں رہا جہاں تمام اختیارات مرکز کے پاس تھے۔ 18ویں ترمیم کے بعد ملک کا انتظامی اور مالیاتی ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ صوبوں کو غیر معمولی اختیارات، وسائل اور مالی خودمختاری دی جا چکی ہے، مگر دوسری طرف قومی قرضوں، آئی ایم ایف پروگرامز، دفاعی اخراجات، درآمدی ادائیگیوں اور معاشی بحرانوں کا بوجھ اب بھی وفاق کے کندھوں پر ہے۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس نے پاکستان کو ایک غیر متوازن وفاق میں تبدیل کر دیا ہے۔
18ویں ترمیم بظاہر جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے کی گئی تھی، مگر عملی طور پر اس نے وفاق کو مالیاتی طور پر کمزور کر دیا۔ صوبوں کو تعلیم، صحت، زراعت، بلدیات، سماجی ترقی اور دیگر بڑے شعبے منتقل کر دیے گئے۔ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے وفاقی محصولات کا بڑا حصہ بھی صوبوں کے حوالے کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود دفاع، قرضوں پر سود، بیرونی ادائیگیاں، سفارتی نظام، توانائی کے گردشی قرضے اور عالمی مالیاتی اداروں سے مذاکرات اب بھی وفاق کی ذمہ داری ہیں۔ یعنی اختیارات صوبوں کے پاس ہیں مگر ریاستی بقا کی ذمہ داری مرکز پر ڈال دی گئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان بار بار آئی ایم ایف کے پاس جاتا ہے۔ آئی ایم ایف پاکستان سے کہتا ہے کہ ٹیکس بڑھاؤ، سبسڈی ختم کرو، بجلی مہنگی کرو، خسارہ کم کرو اور مالی نظم و ضبط قائم کرو۔ یہ تمام فیصلے وفاقی حکومت کو کرنے پڑتے ہیں کیونکہ عالمی دنیا میں ریاستِ پاکستان ایک اکائی کے طور پر کھڑی ہوتی ہے، کوئی صوبہ الگ جا کر قرض نہیں لیتا۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ قرضوں سے فائدہ پورا ملک اٹھاتا ہے جبکہ سیاسی نقصان صرف وفاق کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صوبے اپنے اپنے سیاسی بیانیے بنا کر عوام کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ مہنگائی صرف اسلام آباد کی وجہ سے ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
پاکستان کے صوبے اپنی مالی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ زرعی ٹیکس صوبائی اختیار میں ہے مگر بڑے بڑے جاگیردار آج بھی مؤثر ٹیکس نہیں دیتے کیونکہ صوبائی حکومتیں اپنے سیاسی مفادات کے خلاف نہیں جاتیں۔ پراپرٹی ٹیکس کا نظام کمزور ہے، ریئل اسٹیٹ سیکٹر مکمل طور پر دستاویزی نہیں، مقامی ٹیکس وصولی ناکافی ہے اور سروس سیکٹر میں بھی مکمل استعداد کے مطابق ریونیو اکٹھا نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وفاق خسارہ پورا کرنے کے لیے پیٹرول پر لیوی لگاتا ہے، سیلز ٹیکس بڑھاتا ہے اور بجلی مہنگی کرتا ہے۔ پھر یہی صوبائی حکومتیں عوام کے سامنے آ کر وفاق پر تنقید شروع کر دیتی ہیں۔
18ویں ترمیم کے بعد پاکستان میں پالیسی سازی کا بھی شدید انتشار پیدا ہوا ہے۔ ہر صوبہ اپنی الگ ترجیحات، الگ پالیسیاں اور الگ انتظامی ڈھانچہ لے کر چل رہا ہے۔ تعلیم کا نظام مختلف، صحت کی ترجیحات مختلف، زراعت کی حکمت عملی مختلف اور انتظامی معیار مختلف ہو چکا ہے۔ ایک ریاست کے اندر کئی چھوٹے انتظامی جزیرے بن چکے ہیں جہاں قومی ہم آہنگی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال کسی مضبوط ریاست کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے کیونکہ معاشی اور انتظامی استحکام ہمیشہ مضبوط مرکزی سمت سے پیدا ہوتا ہے۔
دنیا کی کامیاب ریاستوں کو دیکھا جائے تو وہاں مضبوط وفاق ہی قومی استحکام کی بنیاد ہوتا ہے۔ امریکہ، چین، بھارت، روس اور جرمنی جیسے ممالک میں صوبائی یا ریاستی خودمختاری ضرور موجود ہے مگر قومی معیشت، مالیاتی پالیسی، ٹیکس نظام اور اسٹریٹجک فیصلوں پر مرکز کی گرفت مضبوط ہوتی ہے۔ پاکستان نے اس کے برعکس ایک ایسا ماڈل بنا لیا ہے جہاں مرکز کمزور اور صوبے طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی قرضوں، مہنگائی، درآمدی انحصار اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو، وہاں کمزور وفاق ریاست کے لیے مزید خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بات اب کھل کر کہنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے وفاق کو دوبارہ طاقتور بنانا ہو گا۔ صرف جذباتی نعروں اور صوبائی خودمختاری کے رومانوی تصور سے معیشت نہیں چلتی۔ اگر مرکز کے پاس وسائل نہیں ہوں گے تو وہ قرض کیسے ادا کرے گا؟ دفاع کیسے چلائے گا؟ عالمی مالیاتی اداروں سے کیسے نمٹے گا؟ اور قومی معیشت کو کیسے مستحکم کرے گا؟ یہی وجہ ہے کہ اب 18ویں ترمیم پر سنجیدہ قومی بحث ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر ایک آئینی ترمیم ریاستی ڈھانچے میں عدم توازن پیدا کر رہی ہو، وفاق کو مالیاتی طور پر مفلوج کر رہی ہو اور قومی پالیسی سازی کو تقسیم کر رہی ہو تو اس پر نظرثانی جمہوری عمل کا حصہ ہونی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک مضبوط مرکز کا متقاضی ہے۔ صوبائی خودمختاری اپنی جگہ اہم سہی، مگر ریاست کی بقا اس سے زیادہ اہم معاملہ ہے۔ اگر وفاق مسلسل قرض لیتا رہے، سود ادا کرتا رہے اور صوبے صرف وسائل خرچ کرتے رہیں تو یہ ماڈل زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ پاکستان کو ایک نئے وفاقی معاہدے کی ضرورت ہے جہاں قومی معیشت، ٹیکس پالیسی اور مالیاتی نظم و ضبط پر مرکز کو فیصلہ کن اختیار حاصل ہو۔ صوبوں کو بھی قرضوں کی ادائیگی اور قومی مالیاتی ذمہ داری میں شریک کرنا ہو گا۔ این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کرنا ہو گی اور وسائل کی تقسیم کو کارکردگی، ٹیکس وصولی اور مالیاتی نظم و ضبط سے مشروط کرنا ہو گا۔
پاکستان اب اس عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ صوبے سیاسی فائدے لیتے رہیں اور مرکز معاشی قیمت ادا کرتا رہے۔ اگر ریاست کو معاشی دیوالیہ پن، مسلسل آئی ایم ایف پروگرامز اور مالیاتی بحرانوں سے نکالنا ہے تو وفاق کو دوبارہ مضبوط بنانا ہو گا۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کمزور وفاق ہمیشہ بحران پیدا کرتا ہے جبکہ مضبوط ریاستیں ہمیشہ مضبوط مرکز کے ذریعے ہی قائم رہتی ہیں۔بشکریہ سی سی پی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔