کنیز بتول
تیزدھوپ میں کچی چھت پر صحن میں لگے آم کے پیڑ کے نیچے بیٹھا "سعد" اس سال کی فصل کے برباد ہونے کا حساب لگا رہا تھا کھردرے ہاتھوں کی لکیروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے زخموں سے بھرپور زندگی دل خون کے آنسو روتا ہوا خود کلامی کرتے ہوئے ،اس سال بھی اللہ کی زمین پر بیج بکھیر آیا، مگر آسمان سے مہربانی نہیں اتری بارش بھی خفا تھی، فصلیں پیاسی رہ گئیں۔
"ابا جی!" ننھی زہرہ نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا "ہماری فاختہ نے انڈے دیے ہیں… دیکھیں نا!"
سعد کے ہونٹوں پرزخموں کے باوجود مسکراہٹ ابھری فاختہ کی قسمت پر اسے رشک آیا
اْسی لمحے مسجد کے لاوڈ اسپیکر سے امام صاحب کی آواز گونجی:
(البقرہ: 155)’’ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کے نقصان سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔‘‘
سعد نے چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا۔ "یا رب! تو لے لے جوبھی ہے سب تیرا ہے… لیکن میرا صبر باقی رکھ۔"
پچھلے سال بیٹے کی جان گئی اس سال فصل گئی پچھلے نقصان سے یہ بہتر ہے
لیکن ایمان قائم رکھا تیرا شکر ہے
تو نے امتحان لیا، پرمیں نے بھروسہ نہیں چھوڑا، نہیں نا؟’’
زہرہ چپکے سے آم کے پیڑ کے پاس بیٹھتی، اپنے ننھے ہاتھوں سے درختوں کی خشک پتیاں چنتی، اور سوچتی:
"ابا کہتا ہے ہر خزاں کے بعد بہار آتی ہے۔"
سعد کو یقین تھا۔ آزمائش کے پیچھے اللہ کی رحمت چھپی ہے ہر نقصان میں کوئی حکمت ہوتی ہے نہ وہ مدرسے کا فاضل ، نہ فلسفے کا عالم
بس رب پر یقین رکھتا
قریبی گاؤں کے مولوی صاحب اکثر جمعے کے خطبے میں کہتے، "کامیابی ان کے قدم چومتی ہے جو آزمائشوں میں ڈگمگاتے نہیں۔"
سعد کے پاؤں کمزور سہی، مگر نیت مضبوط تھی
ایک دن یونین کونسل کا اہلکار آیا، سروے کے لیے اس نے خستہ حال جھونپڑی، پیاسی زمین، اور زہرہ کے پٹھے کپڑوں پر ایک نظر ڈالی پھر خاموشی سے فارم پر لکھا:
"حق دار۔"
یہ بات سعد کے دل پر پتھر کی طرح لگی مگر دل میں کوئی چراغ روشن ہوا۔ کچھ دن بعد گاؤں میں بارش ہوئی تو لوگوں نے پھر سے زمین میں بوائی شروع کی۔
اب سعد کی جھونپڑی میں ہنسی کی گونج سنائی دینے لگی۔
"ابا، فاختہ کے بچے اْڑ گئے!" زہرہ چیخی۔
سعد کی آنکھوں میں آنسو آگئے، پرہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی
"جو گیا، وہ آزمائش تھی
جو باقی ہے، وہ انعام ہے"
اگلے سال جب آموں کی فصل تیار ہوئی تو وہ زہرہ کو لے کر شہر گیا بازار میں اپنے ہاتھوں سے چْنے گئے آم فروخت ہوتے دیکھ کر فرطِ حیرت میں رہ گیے ‘‘یہ وہی زمین ہے جو بنجر تھی… اور یہ وہی رب ہے جو رحیم ہے…’’
سعد اب بھی وہی ہے، بس اس کی نماز میں ایک شکر کا اضافہ ہو گیا ہے
"اے اللہ! شکر ہے تیرا، تْو نے محرومیوں میں بھی مجھے مایوس نہ ہونے دیا۔"
آزمائشیں ہر انسان کے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ کوئی خوف سے در بند کر لیتا ہے،کوئی امید کے چراغ جلا لیتا ہے۔
سعد کی کہانی ان سب کے لیے ، جو حالات سے ہار جاتے ہیں، اور ان کے لیے بھی جو صبر کے خیمے تلے جیتنے کا ہنر رکھتے ہیں۔
قرآن ہمیں یہی سکھاتا ہے:
"اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔"
اور جس کے ساتھ اللہ ہو، اسے کیا کمی ہو سکتی ہے؟
اْسے یاد آیا، گاؤں کا حاجی کرم دین، جس نے چند سال پہلے زرعی اسکیم کا پیسہ غریبوں کے حصے سے نکال کر اپنے بیٹے کی شادی پر خرچ کیا آج وہی بیٹا علاج کے لیے ترس رہا ہے اللہ کسی کا رزق کسی اور کے ہاتھوں سے تو آزما لیتا ہے،مگرجو بندے کے حصے میں لکھا گیا ،وہ نہ کسی اور کو مل سکتا ہے، نہ چھپایا جا سکتا ہے جو ناجائز طریقے سے کمایا جائے وہ کسی اور شکل میں ضائع ہوتا ہے اس نے اپنے آپ سے کہا: ‘‘انسان چاہے جتنا بھی دوڑ لے، جو مقدر ہے، وہی ملتا ہے چاہے مال ہو عزت یا سکون باقی ریت کی طرح پھسل جاتا ہے