گلے شکوے مل بیٹھ کر دور کئے جاسکتے ہیں،جو بھٹک گئے ان کو واپس لانے کیلئے ہم سب کو بہترین کاوشیں کرنی چاہئیں: شہباز شریف

بھارتی پراکسی وارکھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی بلوچستان میں دہشتگردی نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ : فیلڈ مارشل

 دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، چاہے اندرونی ہو یا بیرونی:پاکستان آرمی ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے، بلوچستان میں امن ناقابل سودے بازی ہے،جنرل عاصم منیر کا بلوچستان گرینڈ جرگہ سے خطاب
دہشتگرد خون کے پیاسے ہیں انہیں پاکستان کی ترقی وخوشحالی نہیں بھاتی، ان لوگوں کے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کیلئے سب کو ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے، آئندہ پی ایس ڈی پی میں ڈھائی سو ارب کا فنڈصرف بلوچستان کیلئے ہے،وزیراعظم
اسلام آباد/ کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔کوئٹہ میں جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بھارتی پراکسی وار اب چھپی نہیں بل کہ کھلی جارحیت میں تبدیل ہو چکی ہے، دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے، چاہے اندرونی ہو یا بیرونی۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان آرمی ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے اور بلوچستان میں امن ناقابلِ سودے بازی ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل بلوچستان سے جڑا ہے۔جرگے کے اختتام پر قبائلی عمائدین نے حکومت اور افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان بلوچستان کے لوگوں کے گلے شکوے مل بیٹھ کر دور کیے جا سکتے ہیں لیکن دہشتگردوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ ترقی وخوشحالی اور بدامنی اکٹھے نہیں چل سکتے، جو لوگ ورغلائے گئے اور جو بھٹک گئے ان کو واپس لانے کیلئے ہم سب کو مل کر بہترین کاوشیں کرنی چاہئیں،آئندہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 25 فیصد حصہ بلوچستان کیلئے رکھا گیا ہے، بلوچستان کے عوام کومبارکباد پیش کرتا ہوں کہ 6، 7 اور 10 مئی کو بھارت نے پاکستان پر جو حملہ کیا تھا اس کے جواب میں افواج پاکستان نے بہادری اور دلیری کے ساتھ دشمن کو وہ شکست دی جس کو وہ عمر بھر یاد رکھے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے بھائیوں اور بہنوں کا بھی ممنون ہوں کہ پاکستانی قوم یکجان ہوکر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی، بطور وزیراعظم تمام واقعات کا عینی شاہد ہوں، میں بلاخوف تردید بتانا چاہتا ہوں کہ یہ مختصر ترین لیکن خطرناک جنگ تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ و دانشمندانہ اور منظم قیادت کے تحت افواج پاکستان نے یہ جنگ جیت کر نہ صرف قوم کا مان بڑھایا بل کہ ان کا سر فخر سے بلند کرتے ہوئے ہم نے 1971ء کا بدلہ لیا۔ مخالف پاکستان کی عظیم کامیابی سے سہم گئے ہیں جبکہ پاکستان کے دوستوں کا حوصلہ آسمانوں سے باتیں کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جب ایٹمی قوت بنا تو دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے بھارت کے 5 دھماکوں کے مقابلے میں 6 دھماکے کرکے بھارت کے اوسان خطا کئے، گلے شکوے بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر دور کئے جاسکتے ہیں لیکن یہ دہشتگرد خون کے پیاسے ہیں انہیں پاکستان کی ترقی وخوشحالی ذرہ برابر بھی نہیں بھاتی، ان لوگوں کے ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کیلئے سب کو ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے جو خلاء اور نقائص ہیں مشاورت سے ان کو پْر کیا جاسکتا ہے، 160 ارب کے بجائے اگر 1600 ارب روپے بھی نچھاور کرنا پڑے تو وہ بھی کم ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے ز مینداروں کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مل کر 70 ارب روپے کے منصوبے پر کام جاری ہے، این 25 چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ جسے خونی شاہراہ کہا جاتا ہے جس پر آئے روز حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، ہماری 16 ماہ کی حکومت میں اس منصوبے کو فنڈنگ بھی دی اور دنیا میں جب تیل کی قیمتیں گریں تو ڈیڑھ سو ارب روپے کے ذریعے فائدہ پہنچاتے ہوئے این 25 منصوبے کی تعمیر کیلئے لائحہ عمل بنایا بل کہ آئندہ پی ایس ڈی پی میں ڈھائی سو ارب روپے کا فنڈز صرف بلوچستان کیلئے ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا 25 فیصد حصہ بلوچستان کیلئے ہے، یہ یہاں کے لوگوں کا حق ہے، میری حکومت میں بلوچستان کے ساتھ معاشی، سماجی ناانصافی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، سوراب میں جو دلخراش واقعہ پیش آیا بتایا جائے کہ آگ اور پانی اکٹھے چل سکتے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ ترقی وخوشحالی اور بد امنی اکٹھے نہیں چل سکتے، ہمیں آپس میں اتحاد واتفاق پیدا کرنا ہوگا۔