اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرحِ سود میں 1 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد شرحِ سود 13 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد ہو گئی ہے۔
یہ اعلان گورنر اسٹیٹ بینک، جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کے حوالے سے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
شرح سود میں کمی کے اثرات
جمیل احمد نے کہا کہ معاشی اعشاریے مثبت ہیں اور مہنگائی کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق:کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں سرپلس رہا۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، جو اس وقت 16.19 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں۔مہنگائی کی شرح جون تک 5 سے 7 فیصد کے بینڈ کی اوپر کی سطح پر رہنے کا امکان ہے۔ورکرز ترسیلات اور برآمدات کے اعداد و شمار بہتر ہیں، جس سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
معاشی نمو اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال
گورنر نے کہا کہ مالی سال 2025 میں:جی ڈی پی نمو 2.5 سے 3.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 0.5 فیصد خسارے سے 0.5 فیصد سرپلس کے درمیان رہ سکتا ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر مالی سال کے اختتام تک 13 ارب ڈالرز تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
مہنگائی اور قرضوں کی صورتحال
جمیل احمد کے مطابق، ماضی میں مہنگائی کی شرح مئی 2023 میں 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، لیکن اب یہ کم ہو کر 4.1 فیصد رہ گئی ہے۔ جنوری میں مہنگائی کی مزید کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔قرضوں کی ادائیگی اور کم ان فلوز کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں جنوری میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، تاہم مجموعی طور پر اقتصادی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔
معاشی سرگرمیوں میں بہتری
انہوں نے مزید کہا کہ:ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔شرح سود میں کمی کا اثر معاشی نمو پر بھی آئے گا، جو آہستہ آہستہ بڑھے گی۔جی ڈی پی نمو کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے تاکہ مالی سال 2025 میں معیشت بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
اختتامی کلمات
گورنر اسٹیٹ بینک نے معاشی پالیسیوں کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور توقع ظاہر کی کہ موجودہ اقدامات سے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی، مہنگائی کنٹرول میں رہے گی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ہو گا۔