لاہور بھر کے ٹیوشن سنٹرز اور تعلیمی عمارتوں کے ہنگامی سروے کا فیصلہ

خصوصی کمیٹیاں تعلیمی اداروں  میں عمارتوں کی مضبوطی، حفاظتی اقدامات، ہنگامی اخراج کے راستوں، آگ سے بچاؤ کے انتظامات کا جائزہ لیں گی
لاہور (شہزاد راجپوت) لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے المناک حادثے کے بعد محکمہ تعلیم نے شہر بھر میں قائم ٹیوشن سنٹرز، اکیڈمیز اور تعلیمی عمارتوں کی حالت جانچنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے آئندہ تین روز کے اندر جامع سروے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق سروے کے لیے زونل ہیڈز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز (اے ای اوز) پر مشتمل خصوصی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ یہ کمیٹیاں لاہور کے مختلف علاقوں میں قائم سکولوں، ٹیوشن سنٹرز، اکیڈمیز اور دیگر تعلیمی اداروں کا دورہ کرکے عمارتوں کی مضبوطی، حفاظتی اقدامات، ہنگامی اخراج کے راستوں، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور طلبہ کی تعداد سمیت مختلف امور کا جائزہ لیں گی۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن اتھارٹی لاہور طارق محمود نے بتایا کہ سانحہ کاہنہ کے بعد تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سروے کے دوران جمع کیے جانے والے اعداد و شمار اور مشاہدات کی بنیاد پر ایک جامع رپورٹ تیار کی جائے گی جس کے ذریعے خطرناک یا غیر محفوظ قرار دی جانے والی عمارتوں کی نشاندہی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سروے رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ٹیوشن سنٹرز اور اکیڈمیز کی رجسٹریشن، نگرانی اور حفاظتی معیار کے حوالے سے نئی پالیسی مرتب کی جائے گی۔ اس پالیسی کا مقصد تعلیمی اداروں کو قانونی اور حفاظتی ضوابط کا پابند بنانا اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔طارق محمود کے مطابق تمام سروے کمیٹیاں اپنی تفصیلی رپورٹس مقررہ مدت کے اندر ایجوکیشن اتھارٹی لاہور کو جمع کرائیں گی، جس کے بعد ان رپورٹس کی روشنی میں مزید کارروائی اور حفاظتی اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ کاہنہ میں ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کے نتیجے میں متعدد بچوں کے جاں بحق اور زخمی ہونے کے افسوسناک واقعے نے والدین، شہریوں اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس سانحے کے بعد تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے حفاظتی معیار، سرکاری نگرانی اور نجی ٹیوشن سنٹرز کے انتظامی نظام پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر محفوظ عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور طلبہ کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔