اکیڈمیز، ٹیوشن سنٹرز کو’’ سبق‘‘سکھانے کی تیاری

 نجی اداروں کی غیر منظم ترقی انتہائی تشویشناک ،ریگولیشن کے لیے قابل عمل انتظامات ضروری : بل پیش 
لاہور(خصوصی رپورٹ)پنجاب میں نجی اکیڈمیز، کوچنگ سنٹرز اور ٹیوشن سنٹرز کو قانونی قواعد و ضوابط میں لانے کی استدعا کر دی گئی۔ پنجاب اسمبلی میں پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (پروموشن اینڈ ریگولیشن) (ترمیمی) بل پیش ،بل مسلم لیگ ن کے رکن امجد علی جاوید نے پیش کیا، بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران پنجاب میں اکیڈمیوں، کوچنگ سنٹرزاور ٹیوشن سنٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ایسے ادارے پیشہ ورانہ تعلیم کا باعث بننے والے مختلف امتحانات اور امتحانات میں طلبا کی تعلیمی کارکردگی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بل میں لکھا گیا کہ ایسے نجی اداروں کی غیر منظم ترقی انتہائی تشویشناک ہے،ایسے اداروں کے ریگولیشن کے لیے قابل عمل انتظامات ضروری ہیں، بل کی شق نمبر 10 میں جہاں سکول کا لفظ ہے وہاں، اکیڈمی، کوچنگ سنٹزر ، ٹیوشن سنٹر کا نام بھی شامل کیا جائے۔بل پر غوروغوض کے لئے اسے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے ، کمیٹی کی منظوری کے بعد اسے منظوری کے لئے پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیش کیا جائے گااور آخر میں گورنر پنجاب کو بھیجا جائے گا۔