حماس اور اسرائیل کے درمیان 620 فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور 4 اسرائیلی مغویوں کی لاشوں کے تبادلے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس سے جنگ بندی معاہدے میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق، یہ قیدی گزشتہ ہفتے رہا کیے جانے تھے، لیکن اسرائیل نے ان کی رہائی روک دی تھی۔ اب یہ توقع ہے کہ انہیں جلد آزاد کر دیا جائے گا۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ فلسطینی قیدی آج رہا کیے جا سکتے ہیں۔رہائی کے بعد، حماس 4 اسرائیلی مغویوں کی لاشیں مصر کے ذریعے اسرائیل کے حوالے کرے گا۔امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے مطابق، اسرائیلی نمائندے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ یہ مذاکرات قاہرہ یا دوحہ میں مصر اور قطر کی میزبانی میں ہوں گے۔
یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ یرغمالیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کر رہا ہے، جس کی وجہ سے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہوئی تھی۔ اب، اس معاہدے کے تحت، دونوں فریقین نے قیدیوں اور لاشوں کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے، جس سے جنگ بندی برقرار رہنے کی امید ہے۔یہ پیش رفت خطے میں امن کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے، اور عالمی برادری اس معاہدے کو مثبت نظر سے دیکھ رہی ہے۔