امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کو جلد ختم کیا جا سکتا ہے، اور انہوں نے آئندہ ہفتے کے اندر جنگ بندی کی امید ظاہر کی ہے۔
وہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
غزہ میں جنگ بندی کا عندیہ:
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا:
"مجھے امن قائم کرنے میں خوشی ہوتی ہے، اور ہم جنگ بندی کے قریب ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ ہفتے کے اندر غزہ میں جنگ بندی ممکن ہو گی۔"
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں ہزاروں جانیں جا چکی ہیں، اور اسرائیلی بمباری پر دنیا بھر سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ایران پر شدید موقف:
صدر ٹرمپ نے ایک خطرناک دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ:
"ایران کی ایٹمی تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، اور اب ان کے پاس کوئی جوہری ہتھیار باقی نہیں"
انہوں نے مزید کہا:
"اگر ضرورت پیش آئی تو ایران پر دوبارہ حملے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا"
یہ بیان ایران اور امریکہ کے تعلقات کو مزید کشیدہ کرنے کا سبب بن سکتا ہے، اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا ایک اور باب کھول سکتا ہے۔
بھارت اور پاکستان کا تذکرہ:
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیتے ہوئے کہا:
"ہم نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے"
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی ٹرمپ کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے بھارت نے مسترد کر دیا تھا، تاہم پاکستان نے ہمیشہ اس کا خیر مقدم کیا۔
بین الاقوامی ردعمل متوقع:
غزہ میں جنگ بندی کی پیش گوئی پر:
عالمی طاقتیں اس بیان کو مثبت امید کے طور پر لے سکتی ہیں
ایران سے متعلق بیانات:
عالمی ادارے اور یورپی ممالک ان بیانات پر تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں
ایران کی طرف سے سخت ردعمل آ سکتا ہے
نتیجہ:
صدر ٹرمپ کا یہ بیان مشرق وسطیٰ کی صورت حال میں اہم موڑ لا سکتا ہے
تاہم ان کے ایران مخالف دعوے اور غزہ جنگ بندی کے خوش کن اندازے کس حد تک حقیقت بنیں گے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو گا