مقبوضہ کشمیر میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی ایک مسلمان کرکٹر کے لیے سزا بن گیا۔
فلسطینی پرچم کا اسٹیکر اپنے ہیلمٹ پر لگا کر میچ کھیلنے والے کرکٹر فرقان بھٹ پر آئندہ لیگ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی، جسے ناقدین بھارت کی مسلم دشمن اور فلسطین مخالف سوچ کی ایک اور مثال قرار دے رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی کرکٹ ٹورنامنٹ جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ کے ایک میچ کے دوران فرقان بھٹ فلسطینی جھنڈے کا اسٹیکر لگائے میدان میں اترے۔ یہ میچ حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کے کے سی اسپورٹس کلب میں کھیلا گیا، جس کے بعد ٹورنامنٹ تنازع کا شکار ہو گیا۔واقعہ سامنے آنے پر مقبوضہ کشمیر پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ٹورنامنٹ منتظمین نے پولیس کو مؤقف دیا کہ انہیں اس اسٹیکر کے بارے میں پیشگی علم نہیں تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ نے فرقان بھٹ پر آئندہ لیگ کھیلنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق فرقان بھٹ کو پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ میچ کے دوران فلسطینی پرچم استعمال کرنے کے پیچھے کیا مقصد تھا۔دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے واقعے پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ “اگر بھارت میں رہنا ہے تو بھارتی پرچم لہرانا ہوگا، فلسطینی پرچم لہرانے والوں کو بھارت سے محبت کرنے والا نہیں سمجھا جا سکتا۔”یہ واقعہ ایک بار پھر بھارت کے دوہرے معیار کو نمایاں کرتا ہے، جہاں ایک طرف اظہارِ رائے کی آزادی کے دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب فلسطین کے حق میں ایک علامتی اور پُرامن اظہار کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا۔