بھارت کی سکیورٹی فورسز میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی لہر

بھارت کی سکیورٹی فورسز میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی لہر

بھارتی سکیورٹی فورسز میں خودکشیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ بھارت کی اندرونی سیاست، جموں و کشمیر میں جاری تنازعات اور فوجی اہلکاروں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے۔

 حالیہ واقعے میں سی آر پی ایف 178 بٹالین کے اہلکار پرم ویر نے اپنی سروس رائفل سے خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ شوپیاں ضلع کے زینہ پورہ علاقے میں پیش آیا۔ ایک اور واقعہ میں، کشتواڑ ضلع کے چترو علاقے میں ایک فوجی اہلکار ست گنم سنگھ اپنی سروس رائفل سے زخمی ہو کر ہلاک ہوگیا۔

جمہوریت کی آڑ میں فسطائیت:
بھارت میں جمہوریت کے دعووں کے باوجود، حکومت کی جانب سے فسطائیت کو فروغ دینے کی کوششوں کے سبب حالات دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس نے دعویٰ کیا کہ مودی کی جنگی جنون اور انتہاپسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں بھارتی فوج کے اہلکار شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جو خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی لہر کا سبب بن رہی ہیں۔

بھارتی فوج اور سکیورٹی فورسز پر دباؤ:
بی جے پی حکومت نے کشمیر میں بھارتی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے 8 لاکھ سے زائد فوجی اور 3 لاکھ سے زائد سی آر پی ایف کے جوان تعینات کیے ہیں، جنہیں سخت کام کے حالات اور تنازعات والے علاقوں میں طویل مدت تک تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز میں ذہنی صحت کے مسائل اور خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2011 سے 2023 تک سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے 1,532 جوانوں نے خودکشی کی، اور 2023 میں سی آر پی ایف کے 52 اہلکاروں نے خودکشی کی۔ یہ اعداد و شمار بھارتی سکیورٹی فورسز میں بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ اور متنازعہ پالیسیوں کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔