کرم امن معاہدہ: 400 پولیس اہلکاروں کی بھرتی، نئی چیک پوسٹیں اور ایف سی پلاٹون تعینات کرنے کی منظوری

کرم امن معاہدہ: 400 پولیس اہلکاروں کی بھرتی، نئی چیک پوسٹیں اور ایف سی پلاٹون تعینات کرنے کی منظوری

خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کرم امن معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں کرم تنازعہ کا پائیدار حل حاصل کیا گیا ہے۔

 اس کے لیے ایک سو سال سے زائد پرانے تنازعے کو ختم کرنے کے لیے گرینڈ جرگے کی 50 سے زائد نشستیں ہوئیں، جس میں جرگہ ممبران نے خلوص دل سے حصہ لیا۔ اس عمل میں کمشنر، ڈی آئی جی اور دیگر انتظامیہ نے بھرپور کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سڑک کی بندش کا مقصد خونریزی کو روکنا تھا، جس کے باوجود حکومت نے عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر حکومت نے ادویات اور دیگر سروسز پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر سروس شروع کی، جس کے ذریعے 15 ٹن ادویات فراہم کی گئیں اور 700 سے زائد افراد کو فضائی سروس دی گئی۔علاوہ ازیں، وزیراعلیٰ کے حکم پر محکمہ خوراک نے متاثرہ علاقوں میں رعایتی قیمتوں پر آٹا فراہم کیا اور محکمہ ریلیف نے دیگر ضروری سامان پہنچایا۔ متاثرہ گاؤں کا سروے مکمل ہو چکا ہے، اور جلد معاوضے دینے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

مشیر اطلاعات نے کہا کہ کرم امن معاہدے کے بعد دھرنوں کا جواز ختم ہو گیا ہے، کیونکہ ان کے دو اہم مطالبات امن قائم کرنا اور سڑک کو کھولنا تھے، جو پورے ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کرم کی مین شاہراہ کی سیکیورٹی کے لیے 400 پولیس اہلکاروں کی بھرتی کی منظوری دی گئی ہے، اور نئی پولیس چیک پوسٹیں قائم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ، دو ایف سی پلاٹون بھی تعینات کیے جائیں گے تاکہ علاقے کی سیکیورٹی مزید بہتر ہو سکے۔