زمبابوے میں سزائے موت کو فوری ختم کرنے والے قانون کی منظوری

یہ انصاف اور انسانیت کی خدمت کی جانب حکومت کی کوششوں اور اس کی سنجیدگی کی جانب اہم قدم ہے ،وزیرانصاف
 ہرارے(آئی این پی )زمبابوے کے صدر ایمرسن منانگاگوا نے جنوبی افریقی ریاست میں سزائے موت کو فوری طور پر ختم کرنے والے قانون کی منظوری دے دی ہے، انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فیصلے کو خطے میں امید کی کرن قرار دیا ہے تاہم تنظیم کی جانب سے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ جس میں زمبابوے کی حکومت کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات کے دوران سزائے موت کو بحال کیا جا سکتا ہے۔نانگاگوا کا یہ اقدام دسمبر کے اوائل میں زمبابوے کی پارلیمنٹ کی جانب سے سزائے موت کو ختم کرنے کے حق میں ووٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے زمبابوے میں آخری بار 2005 میں پھانسی دی گئی تھی لیکن اس کی عدالتیں قتل جیسے سنگین جرائم میں سزائے موت سناتی رہیں۔زمبابوے کے وزیر انصاف و قانون زیامبی زیامبی نے کہا کہ سزائے موت کا خاتمہ قانونی اصلاحات سے کہیں زیادہ ہے یہ انصاف اور انسانیت کی خدمت کی جانب حکومت کی کوششوں اور اس کی سنجیدگی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف زمبابوے کے لیے بڑی اور اہم پیش رفت ہے بل کہ اس انتہائی ظالمانہ غیر انسانی اور ذلت آمیز سزا کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔