فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کا قانون ، سوئٹزر لینڈ میں اسرائیلی سفیر کی طلبی

  ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے مطالبات  اسرائیل کی جاری نسل کشی کو طول دینے کے مترادف ہیں، حماس ترجمان ابو عبیدہ 
  غزہ،سٹاک ہوم  (آئی این پی ) حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تنظیم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے مطالبات دراصل اسرائیل کی جاری نسل کشی کو طول دینے کے مترادف ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق حماس کے مسلح ونگ نے گروہ کے غیر مسلح ہونے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتا، اس سے قبل اس معاملے پر بات چیت کرنا فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کو جاری رکھنے کی کوشش کے برابر ہے۔گزشتہ روز ایک بیان میں حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ ہتھیاروں کے معاملے کو بھونڈے انداز میں اٹھانا قابلِ قبول نہیں ہو گا۔واضح رہے کہ غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا مقصد اسرائیل کی جنگ کا خاتمہ ہے، جس پر عملدرآمد کے لیے جاری مذاکرات میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اکتوبر سے امریکا اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 705 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کے اسرائیلی قانون پر سوئٹزرلینڈ کا ردعمل سامنے آ یا ہے۔غیرملکی خبر  رساںادارے کے مطابق سوئس وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ کہ سزائے موت ہر جگہ اور ہر حالت میں ناقابلِ قبول ہے۔ واضح رہے اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے، جس کے مطابق اگر کوئی فلسطینی اسرائیلیوں کے قتل میں مجرم ثابت ہو جائے تو اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہا ہے کہ یہ قانون بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ، غیر منصفانہ ہے اور امتیازی ہے۔