دوست کو قتل کرنے والے مجرم کی سزائے موت کالعدم، بری کرنے کا حکم

 ملزم سے برآمد ہونے والا پستول خالی تھا ‘ فرانزک کیلئے نہیں بھیجا گیا، جو تفتیش میں سنگین خامی ہے
 پراسکیوشن کے  گواہ کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا‘ شواہد درست انداز میں اکٹھے نہیں کئے گئے:ہائیکورٹ
لاہور(آئی این پی )لاہورہائیکورٹ نے سزائے موت کے مجرم کی اپیل منظور کرتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کو بری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔یہ فیصلہ جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیا باجوہ پر مشتمل بینچ نے سنایا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق معمولی تلخ کلامی کے بعد دوست کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کے خلاف استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا۔عدالت نے ریمارکس دئیے  پراسکیوشن کے اسٹار گواہ کے بیانات میں واضح تضاد پایا گیا جبکہ شواہد بھی درست انداز میں اکٹھے نہیں کیے گئے۔جسٹس فاروق حیدر نے فیصلے میں کہا کہ ملزم سے برآمد ہونے والا پستول خالی تھا اور اسے فرانزک تجزیے کے لیے بھی نہیں بھیجا گیا، جو کہ تفتیش میں سنگین خامی ہے۔