پاکستان سے کشیدگی کے بعد بھارت نے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا

پاکستان سے کشیدگی کے بعد بھارت نے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا

نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے ساتھ مئی 2025 میں ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد اپنے دفاعی بجٹ میں 15 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے مالی سال 2026-27 کے لیے مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے دفاع کے لیے 85 ارب 40 کروڑ ڈالر مختص کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔لوک سبھا میں پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق دفاعی اخراجات میں اضافے کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کا حصول، ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کی خریداری، اور دفاعی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ بھارتی وزارتِ دفاع کے مطابق اس بجٹ کے ذریعے خریداری کے عمل کو آسان بنانے اور وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ دی جائے گی۔بجٹ دستاویزات کے مطابق ہتھیاروں اور دفاعی آلات کی خریداری کے لیے مختص رقم میں 21.84 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ دفاعی سروسز کے روزمرہ اخراجات، ایندھن، مرمت اور تنخواہوں کے لیے بھی اضافی فنڈز رکھے گئے ہیں۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گزشتہ سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع سامنے آیا تھا، جس میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے پہلگام علاقے میں عسکری کارروائی کے بعد پاکستان میں عسکریت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جسے بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دفاعی بجٹ میں اضافے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں بہتری آئے گی۔ تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث 15 فیصد اضافہ عملی طور پر محدود اثر ڈال سکتا ہے۔