بلوچستان حملوں میں بھارت ملوث ہے: خواجہ آصف

 بارہ مقامات پر دہشت گردوں کے حملے مکمل طور پر ناکام بنائے گئے
 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا، جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت ملوث ہے۔سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، یہ مسنگ پرسن کا معاملہ ٹوٹل فراڈ ہے، صرف ایک بیانیہ بنایا گیا ہے، ان کے زیادہ تر لوگ دبئی اور مسقط میں رہتے ہیں، یہ لوگ ریاستی دفاتر پر حملے کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بارہ مقامات پر دہشت گردوں کے حملے مکمل طور پر ناکام بنائے گئے، دہشت گرد بے شمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہوئے، یہ لوگ چھوٹے بچوں اور خواتین کو استعمال کر رہے ہیں، افغانستان میں ان کے پلانر اور ہینڈلر بیٹھے ہوئے ہیں، بھارت اور افغانستان بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے فرنچائز استعمال نہ کریں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد میں سے اکثر بیرون ممالک مقیم ہیں اور ان کے لواحقین لاپتہ افراد کا الاؤنس بھی لیتے ہیں، یہ عناصر ہمیں دوبارہ معاشی اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں، بی ایل اے ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے جو دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ہم طویل عرصے سے ان کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور دہشت گردوں کا مکمل طور پر خاتمہ کریں گے