لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت کی تیاریاں مکمل، 2,276 مجاز سیل پوائنٹس قائم

لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت کی تیاریاں مکمل، 2,276 مجاز سیل پوائنٹس قائم

لاہور میں دو دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد بسنت کے انعقاد کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

 کمشنر لاہور مریم خان کے مطابق شہر میں پتنگ اور ڈور کی فروخت کے لیے مجموعی طور پر 2,276 مجاز سیل پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، تاکہ شہری محفوظ انداز میں بسنت منا سکیں۔کمشنر لاہور نے بتایا کہ ہر سیل پوائنٹ پر پتنگ بازی کا سامان کیو آر کوڈ اور این او سی کے تحت فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ اندرونِ لاہور کے ریڈ زون کے علاوہ شہر کے تمام علاقوں میں یہ سیل پوائنٹس قائم ہیں۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ صرف کیو آر کوڈ والا سامان خریدیں، کیونکہ بغیر این او سی یا کیو آر کوڈ سامان فروخت کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔

مریم خان کے مطابق تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے ماتحت کوئیک رسپانس ٹیمیں سیل پوائنٹس کی 24 گھنٹے نگرانی کر رہی ہیں، جبکہ لاہور انتظامیہ صفائی، آگاہی اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے مکمل طور پر متحرک ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پتنگ بازی کی اجازت صرف 6، 7 اور 8 فروری کو ہوگی۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔ رواں ماہ اب تک 1,316 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں اور 1,237 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ کارروائیوں کے دوران 28 غیر قانونی مینوفیکچررز، 197 فروخت کنندگان اور 1,152 پتنگ باز گرفتار ہوئے، جبکہ 81,000 سے زائد پتنگیں اور 1,422 چرخی و ممنوعہ ڈور برآمد کی گئی ہیں۔

فیصل کامران نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران صرف ساڑھے چار گٹھی پتنگ اور ڈیڑھ تاوا گڈا اڑانے کی اجازت ہوگی، اور صرف کاٹن دھاگے کی ڈور قابل استعمال ہوگی۔ دھاتی تار، نائلون، کیمیکل اور شیشہ لگی مانجے پر مکمل پابندی عائد ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یکم سے 8 فروری تک صرف ضلعی انتظامیہ سے رجسٹرڈ دکانداروں کو فروخت کی اجازت ہوگی، جبکہ موٹر سائیکل سواروں کے تحفظ کے لیے سیفٹی راڈز کی تنصیب کا عمل بھی جاری ہے۔ دکانداروں کے مطابق ایک تاوا گڈے کی قیمت 300 سے 350 روپے، ڈیڑھ تاوا گڈا 400 سے 450 روپے اور ڈور 5,000 سے 9,000 روپے تک فروخت کی جا رہی ہے، اور تمام پتنگوں اور گڈوں پر کیو آر کوڈ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد بسنت کی واپسی سے شہر میں جشن کا سماں ہے، تاہم سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کی مکمل پاسداری کریں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ بسنت کو محفوظ اور خوشگوار بنایا جا سکے۔