بڑا بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے، ایران سے مذاکرات جاری اور نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں،بھارت اب ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا
واشنگٹن (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بارے میں امریکا اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطی کے اتحادیوں کو نہیں بتاتا، ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا اور کسی نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں، جبکہ بھارت اب ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا ۔ ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات جاری رکھنا اور نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں،پہلے بھی مذاکرات ناکام ہوئے تو ہمیں جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا پڑا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ایران مذاکرات کرے، اور ہم دیکھیں گے کہ کیا کیا جاسکتا ہے ورنہ ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگی جہازوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔حالیہ مذاکرات کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے بارے میں امریکا اپنے سیاسی عزائم مشرق وسطی کے اتحادیوں کو نہیں بتاتا۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا۔ واشنگٹن ڈی سی سے فلوریڈا جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم یہ معاہدہ پہلے ہی کر چکے ہیں، کم از کم معاہدے کا تصور طے پا چکا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل امریکا نے نئی دہلی کو بتایا تھا کہ وہ روسی تیل کی درآمدات کے متبادل کے طور پر جلد ہی وینزویلا سے تیل کی خریداری دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔برطانوی خبررساںادارے کے مطابق اس معاملے سے واقف تین افراد نے بتایا کہ یہ اقدام بھارت کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد کے لئے زیر غور ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کو وینزویلا کا خام تیل فراہم کرنے کی امریکی کوششیں اس تناظر میں کی جا رہی ہیں کہ واشنگٹن روس کی تیل آمدنی کو کم کرنا چاہتا ہے، جو یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مالی معاونت کر رہی ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس مارچ میں وینزویلا سے تیل خریدنے والے ممالک، جن میں بھارت بھی شامل ہے، پر 25 فیصد محصولات(ٹیرف) عائد کیے تھے۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ چین بھی امریکا کے ساتھ وینزویلا کا تیل خریدنے کے لیے معاہدہ کرنے کا خواہش مند ہو سکتا ہے اور اس کا خیرمقدم کیا جائے گا۔