اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق جہانگیری ڈگری تنازع کیس کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
عدالت نے جامعہ کراچی سے متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا ہے تاکہ معاملے کی مزید تحقیقات کی جا سکے۔سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں ہوئی، جس میں جسٹس اعظم خان بھی شامل تھے۔ دورانِ سماعت، عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے کراچی یونیورسٹی سے ریکارڈ طلب کرنے کے احکامات دیے۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ بغیر کسی مقدمے یا کیس کے، میرٹ کے بغیر، ایچ ای سی ریکارڈ طلب کر رہا ہے، جو قانونی طور پر غلط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریکارڈ طلبی کے لیے متعلقہ قانونی عمل اور طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔دورانِ سماعت، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اس مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دینا چاہتی ہے تاکہ مقدمے کا جائزہ لے اور اپنے مؤقف کا دفاع کر سکے۔
عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے ایچ ای سی سے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلقہ تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے تاکہ اس کیس کے حقائق کا پتہ چلایا جا سکے اور قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔یہ پیش رفت اس حوالے سے اہم ہے کہ عدالت اس کیس کا فیصلہ میرٹ اور قانونی اصولوں کے مطابق کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور تمام متعلقہ دستاویزات کو طلب کرکے شفاف تحقیقات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔