اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا اور جسٹس جہانگیری کو تمام دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے بینچ کی سربراہی کی، جبکہ جسٹس جہانگیری خود روسترم پر پیش ہوئے اور وکلا کو بیٹھنے کی ہدایت کی گئی۔

جسٹس طارق جہانگیری کے مؤقف:
جسٹس جہانگیری نے کہا کہ انہیں جمعرات کو نوٹس موصول ہوا اور تمام کیس ریکارڈ فراہم ہونا چاہیے۔
انہوں نے چیف جسٹس پر بینچ میں بیٹھنے پر اعتراض کیا اور کہا کہ ان کی اپیل زیر التوا ہے، اس لیے انہیں بغیر سنے کام سے روکا گیا۔
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ درخواست قابل سماعت ہے اور نوٹس جاری کرنا وقت کی کمی کی وجہ سے غیر مناسب تھا۔
جسٹس جہانگیری نے اپنی ڈگری کی اصلیت کی حلفاً تصدیق کی اور کہا کہ کیس دوسرے بینچ کو منتقل کیا جائے تاکہ وہ جواب داخل کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جوڈیشل ہسٹری میں ایسا نہیں ہوا کہ کسی جج کو کام سے روکا جائے۔
عدالت کے اقدامات:
عدالت نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو تمام ریکارڈ اور دستاویزات کے ساتھ طلب کر لیا۔
درخواست گزار نے کیس کی روزانہ بنیاد پر سماعت کی استدعا کی، جبکہ جسٹس جہانگیری نے مزید وقت کی درخواست کی تاکہ مناسب جواب داخل کیا جا سکے۔
صدر اسلام آباد بار نے مؤقف اپنایا کہ ہر چیز کا قانون اور اصول ہوتا ہے، لہذا سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔