اسرائیلی حملوں میں مزید 48 فلسطینی شہید، غزہ میں صورتحال سنگین

اسرائیلی حملوں میں مزید 48 فلسطینی شہید، غزہ میں صورتحال سنگین

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج انسانی جسم تحلیل کرنے والے ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہی ہیں، جن کی مدد سے لاشیں بخارات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

 غزہ کے محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر نے اس انکشاف کی تصدیق کی ہے۔غزہ کے شمالی علاقے بیت لاھیا میں ہونے والی بمباری میں مزید 10 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، اور گزشتہ روز سے اب تک مختلف اسرائیلی حملوں میں 48 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔دوسری جانب، مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں حماس اور فلسطینی گروپ الفتح کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے پر تبادلۂ خیال جاری ہے۔ اسی دوران اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں شمالی جبالیہ اور جنوبی اباسین الکبیرہ پر بھی حملہ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق، اتوار کے روز اسرائیلی فورسز کے حملوں میں 34 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے چھاپوں کے دوران 4 فلسطینی شہید ہو گئے۔اقوامِ متحدہ کے ادارے انروا نے کریم ابوسالم کراسنگ کے ذریعے امدادی سامان کی ترسیل معطل کر دی ہے، کیونکہ امدادی ٹرکوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔غزہ میں اسرائیلی بربریت کے آغاز کے بعد سے اب تک 44 ہزار 429 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 1 لاکھ 5 ہزار 250 افراد زخمی ہیں۔