غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے مسلسل جاری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 70 فلسطینی شہید ہوگئے، جس کے بعد شہداء کی مجموعی تعداد 46 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1 لاکھ 9 ہزار 378 ہو چکی ہے۔
بچوں کی شہادت
یونیسیف کے مطابق 2025 کے پہلے ہفتے میں 74 فلسطینی بچے شہید ہو چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسپتالوں کی سنگین صورتحال
غزہ کی وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ اسپتالوں میں ایندھن ختم ہونے کو ہے۔ صرف ایک دن کا ایندھن باقی رہ گیا ہے، جس کے بعد مزید اسپتال بند ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی کارروائیاں
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رفح کے علاقے میں ایک زیرِ زمین سرنگ سے ایک مغوی کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ بیت حنون میں ایک آئی ای ڈی حملے میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر خزانہ کا بیان
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموتریچ نے غزہ کے خلاف جنگ کو مزید شدت دینے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے لیے "جہنم" تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے جنگ بندی کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حماس کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہیے تھے۔
جنگ بندی کی امید
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے امکانات پر امید ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں"۔
صورت حال کا جائزہ
غزہ میں جاری انسانی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ نہ صرف شہری آبادی پر حملے جاری ہیں بلکہ بنیادی سہولیات کی قلت اور بین الاقوامی برادری کی خاموشی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔