لاہور: ایران کے صدر مسعود پزشکیان سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ لاہور ایئرپورٹ پر صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایرانی صدر کا پُرتپاک استقبال کیا۔
ایرانی صدر نے اپنے دورے کے آغاز پر مزارِ اقبال پر حاضری دی، فاتحہ پڑھی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے۔ایئرپورٹ پر ایرانی صدر کے استقبال کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا تھا اور ایئرپورٹ کو پاکستان اور ایران کے پرچموں سے سجایا گیا تھا۔ استقبال کے بعد ایرانی صدر، نواز شریف اور مریم نواز ایک ہی گاڑی میں روانہ ہوئے۔یہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا بطور صدرِ ایران پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ دو روزہ دورے پر ان کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی صدر اپنے قیام کے دوران صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 27 مئی 2025ء کو ایران کا دورہ کیا تھا۔
‘دورہ پاکستان کا مقصد تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے’
پاکستان روانگی سے قبل ایرانی صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دورے کا مقصد تجارتی و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحدی سلامتی اور علاقائی امن کے امور زیر بحث آئیں گے، سرحدی منڈیاں اور رابطے باہمی تعاون کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں فعال شرکت کے خواہاں ہیں جس سے ایران کو یورپ سے جوڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔