سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر سخت تنقید، 9 اپریل کو لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان

 سہیل آفریدی کی وفاقی حکومت پر سخت تنقید، 9 اپریل کو لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر صوبے کے قانونی اور آئینی حقوق روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ صوبے کو نیشنل فنڈز کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاق سے 1,375 ارب روپے سے زائد کا حق بنتا ہے، لیکن یہ رقم ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سہیل آفریدی نے بتایا کہ وفاق کی طرف سے صوبے کو نہ تو سیلاب یا دیگر قدرتی آفات کے متاثرین کے لیے کوئی امداد دی گئی اور نہ ہی صوبائی بجٹ پر وفاقی کٹ کی گئی رقم واپس کی گئی۔ صوبائی حکومت نے اپنی وساطت سے متاثرین کو امداد فراہم کی ہے، لیکن یہ مالی دباؤ صوبے کی ترقی اور عوامی سہولیات پر اثر ڈال رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ بانی پاکستان تحریک انصاف کی ہدایت کے مطابق عوام کے خلاف کسی پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کر رہے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف صوبے میں کارروائیاں جاری ہیں اور وہ پاکستان کے اداروں اور فوج کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔مزید براں، سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ پاکستان تحریک انصاف 9 اپریل کو لیاقت باغ، راولپنڈی میں جلسہ کرے گی، اور اس کے لیے کل این او سی جمع کروایا جائے گا۔یہ پریس کانفرنس خیبر پختونخوا کے مالی بحران، وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور صوبائی سیاسی حکمت عملی کے پس منظر میں ہوئی ہے، جس میں صوبے کے عوامی حقوق اور فنڈز کی فراہمی کو بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔