سوات: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے، تاہم صوبے میں دوبارہ دہشت گردی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوام کو پولیس کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ادارے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہے۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر سال 2026 کو امن کا سال قرار دیا گیا ہے تو پھر دہشت گردوں کو چھوڑنے کا تاثر کیوں پیدا ہو رہا ہے۔ آج سوات متاثر ہے، کل بونیر بھی اس صورتحال سے متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے خیبرپختونخوا میں مزید دہشت گردی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن بحال کر کے دکھائیں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مزید سخت پالیسی اپنانا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، جبکہ پولیس اور سی ٹی ڈی امن کے قیام میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے پی نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو گورننس کا اختیار حاصل نہیں، جبکہ جن کا کام سیاست نہیں وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو مزید مضبوط بنایا جائے گا کیونکہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے کے بجائے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، بصورت دیگر عوامی ردعمل اور مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔