اسلام آبادایم اویوکے تحت طے مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے‘خطے میں دیرپا امن کے قیام کیلئے یہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے،پاکستان کوششیں جاری رکھے گا:وزیراعظم
علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابل تعریف ہیں‘دونوں ممالک کے تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں:ایرانی صدر
بشکیک(آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات ہوئی، جس میں پاک ایران باہمی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آبادایم اویوکے تحت طے مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے یہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے موجود مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط کے فروغ اور عوامی سطح پر روابط مزید بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دور تہران اور ان کے تعمیری روابط سے اچھے نتائج کی امید ہے۔صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کی پائیدار مضبوطی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا دونوں ممالک کے تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تہران کی بھرپور خواہش کا اعادہ کیا۔صدر پزشکیان نے عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت اہمیت کا ذکر کیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ان کی سہولت کے مطابق جلد از جلد پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ایرانی صدر نے بھی وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دسمبر 2026 میں تہران میں منعقد ہونے والے آئندہ اقتصادی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی