حافظ عبدالغفار روپڑی امیر جماعت اہلحدیث پاکستان
جب ہم بعثتِ نبوی سے قبل کے جغرافیائی، سیاسی اور سماجی حالات پر ایک طائرانہ اور عمیق نظر ڈالتے ہیں، تو کائناتِ ہست و بود کا منظرنامہ انسانیت کی بدترین زبوں حالی اور تہذیبی افلاس کا ایک دردناک نوحہ نظر آتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں انسان، انسانیت کے اعلی مرتبے سے گر کر درندگی اور حیوانیت کی انتہا کو چھو رہا تھا۔ مظلوم اور کمزور کا وجود ایک جرم بن چکا تھا، طاقت ور کا قول ہی آئین و قانون تھا، شرک، وہم پرستی اور جاہلانہ تعصبات کے سیاہ بادلوں نے عقلِ انسانی کے تمام روزن بند کر دیے تھے۔ عورت کو محض ایک بے زبان متاعِ بے قدر سمجھا جاتا تھا اور نوزائیدہ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دینا فخر کا باعث شمار ہوتا تھا۔ سسکتی ہوئی انسانیت، سچائی اور ہدایت کی پیاسی تھی اور کسی ایسے نجات دہندہ کی منتظر تھی جو اسے ظلمت و جہالت کی ان عمیق گہرائیوں سے نکال کر نورِ ہدایت اور روحی بالیدگی کی منور فضا میں لے آئے۔
عین اس وقت، حجازِ مقدس کی وادیوں اور فاران کی منور چوٹیوں سے ایک ایسا آفتابِ عالم تاب طلوع ہوا جس کی تابانیوں نے ملک و ملت، رنگ و نسل ا ور زمان و مکان کی تمام جغرافیائی سرحدوں کو پاش پاش کر کے آفاق کو منور کر دیا۔ سرورِ کائنات، فخرِ موجودات، سراجِ منیر، احمدِ مجتبی محمد مصطفی کی ذاتِ بابرکات کا ظہورِ مسعود محض کسی ایک خطے، قوم یا نسل کے لیے نجات کا پیغام نہ تھا، بلکہ یہ تمام تر انسانی ارتقا کا وہ نقطہ عروج تھا جہاں اللہ کی رحمت اور انسانیت کی تقدیر باہم آغوش ہو گئیں۔ آپ کا وجودِ مسعود ایک ایسا کامل، جامع، متوازن اور ابدی ضابطہ حیات بن کر نازل ہوا، جس نے افکار و نظریات کے تمام زاویے بدل دیے، اخلاق کو نیلم و زمرد کی درخشندگی عطا کی اور انسان کو اس کی حقیقی عظمتِ رفتہ سے روشناس کرایا۔
ربِ ذوالجلال نے قرآنِ حکیم کے مقدس اور لازوال صفحات میں سیرتِ مصطفی ? کی آفاقیت، جامعیت اور ابدیت کو ایک ہی آیتِ کریمہ کے سمندر میں سمو کر انسانیت کے سامنے ابدی ہدایت کا حتمی منشور پیش کر دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالی کے فرمان کا ترجمہ ہے
( بلاشبہ تمھارے لیے رسول اللہ کی ذاتِ بابرکات میں بہترین، کامل ترین اور جامع ترین نمونہ موجود ہے)۔
یہ قرآنی اعلان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ 'اسوہ حسنہ' کسی خاص طبقے، زمانے، پیشے یا خطے تک محدود نہیں ہے۔ زندگی کی شاہراہ پر انسانی وجود کے جتنے بھی روپ اور مظاہر ہو سکتے ہیں، ان تمام کے لیے سیرتِ نبوی میں مکمل رہنمائی موجود ہے۔ ایک عادل اور حکمتِ عملی سے لبریز حکمران سے لے کر ایک شفیق باپ اور شوہر تک، ایک صاحبِ بصیرت سپہ سالار سے لے کر ایک امانت دار اور سچے تاجر تک اور خلوت کے عابد سے لے کر جلوت کے عادل قاضی تک سیر تِ مصطفی کا ہر نقشِ قدم زندگی کی اندھیری راہوں میں ایک روشن قندیل بن کر ہدایت فراہم کرتا ہے۔
ام المئومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جب چند صحابہ نے حاضر ہو کر نبی کریم ? کے اخلاق و سیرت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے بلاغت، فصاحت اور حقیقت نگاری کا شاہکار جواب ارشاد فرمایا: ( ا ن خلقہ القرآن ) آپ کا اخلاق قرآن ہی تو
ہے۔ اس مختصر مگر جامع ترین جملے کا فکری مفہوم یہ ہے کہ جو حقائق، اوامر، نواہی، اور حکمتیں قرآنِ پاک کی شکل میں حرف اور آیت بن کر نازل ہوئیں وہ ذاتِ مصطفی میں ایک زندہ، متحرک اور مجسم انسان بن کر سامنے آ گئیں۔ آپ کی حیاتِ طیبہ قرآنِ کریم کا عملی نمونہ اور اس کی مجسم تعبیر و تفسیر ہے۔ آپ کی بعثت کا سب سے بڑا اور بنیادی ترین مقصد اخلاقیات کی ترویج اور انسانیت کی کھوئی ہوئی حرمت کی بحالی تھا۔ آپ نے اپنے مقصدِ بعثت کا احاطہ کرتے ہوئے فرمایا:
"ِنما بعِثت لِاتمم مکارم الاخلاق میں تو صرف اسی لیے مبعوث کیا گیا ہوں تاکہ اخلاق کے اعلی ترین محاسن کو ان کی آخری تکمیلی اور کامل حد تک پہنچا دوں۔ اس اخلاقی انقلاب کا سب سے درخشان، تابناک اور انقلابی باب وہ تھا جس نے انسان کو انسان کی غلامی، محکومی اور استحصال سے نجات دلائی۔ آپ نے رنگ، نسل، زبان، قبیلے اور جغرافیے کی بنیاد پر قائم شدہ تمام تر مصنوعی اور جاہلانہ بتوں کو پاش پاش کر دیا اور مساواتِ انسانی کا وہ عالمی چارٹر پیش کیا جس کی کوئی مثال انسانی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے کسی بھی مغربی یا مشرقی فلسفے میں نہیں ملتی۔ خطبہ حج الوداع کے موقع پر جب کہ میدانِ عرفات میں ایک لاکھ سے زائد نفوسِ قدسیہ موجود تھے، آپ نے عالمی انسانی مساوات کا حتمی اعلان باایں الفاظ فرمایا: اے لوگو! تمھارا رب ایک ہے اور تمھارا باپ( آدم ) ایک ہے۔ خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر ا ور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔ اسی طرح نہ کسی گورے کو کسی کالے پراو ر نہ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت ہے۔ فضیلت اور برتری کا واحد اور حقیقی معیار صرف اور صرف تقوی ا ور پاکیزہ کردار ہے۔تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ تمھارے خون، تمھارے اموال اور تمھاری آبروئیں ایک دوسرے پر اسی طرح محترم اور حرام ہیں جیسے اس دن، اس مہینے اور اس شہرِ حرم کی حرمت ہے۔فتحِ مکہ کا دن انتقام، غرور اور تکبر کا دن نہیں بلکہ عاجزی اور رحمت کا دن تھا۔ قریش کے وہ تمام تر سرکردہ دشمن، جنہوں نے آپ پر پتھر برسائے، راستوں میں کانٹے بچھائے، آپ کے اصحاب کو دردناک اذیتیں دیں، آپ کو آپ کے محبوب وطن مکہ سے بے وطن کیا، جب خوف کے مارے سر نگوں کھڑے تھے، تو رحمتِ عالم نے انتقام کی بجائے فرمایا: "آج تم پر کوئی گرفت اور ملامت نہیں، جائو تم سب کے سب آزاد ہو!"
ہمارے اسلاف، آئمہ دین اور محدثین نے سیرتِ مصطفی ? کو محض تاریخ کے چند پرانے صفحات یا سوانحی واقعات کی فہرست کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک زندہ، جاوید، متحرک اور عالمی نظامِ فکر قرار دیا ہے جس کے بغیر روح کی بالیدگی، دل کا سکون اور معاشرے کی اصلاح ناممکن ہے۔ اسی پس منظر میں سیدنا سفیان ثوری فرماتے تھے کہ سیرتِ نبوی وہ کسوٹی اور ترازو ہے جس پر انسان کو اپنے تمام تر افعال، اقوال اور خیالات کو پرکھنا چاہیے جو عمل سیرت کے مطابق ہو وہ مقبول ہے ا ور جو اس کے خلاف ہو وہ مردود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی روح کی حقیقی پاکیزگی اور دونوں جہانوں کی سعادت کا راز اسی بات میں مضمر ہے کہ انسان اپنے باطن اور ظاہر کو اخلاقِ مصطفی کے سانچے میں ڈھالے۔ آپ کا غصہ، آپ کی رضامندی، آپ کی سخاوت، آپ کا زہد اور آپ کی خلوت و جلوت، سب وحیِ الہی کی نگرانی میں ترتیب پائی تھیں، اس لیے ان کی پیروی عقلِ سلیم کا حتمی تقاضا ہے۔ ہمارے اسلاف، آئمہ دین، فقہا اور دانائے راز مفکرین نے ہمیشہ اسی حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ امتِ مسلمہ اور بالعموم تمام انسانیت کا عروج، عزت، امن اور بقا صرف اور صرف سیرتِ مطہرہ پر سچے دل سے
کاربند ہونے میں مضمر ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سیرتِ مصطفی وہ آبِ حیات ہے جس سے مرجھائی ہوئی انسانیت کو ہر دور میں نئی زندگی اور روشنی ملتی ہے۔ یہ ایک ایسا جامع اور کامل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی انفرادی خلوت سے لے کر بین الاقوامی ایوانوں تک اور معیشت کی جزئیات سے لے کر ریاست کے آئین و قوانین تک ہر شعبے کی مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ بشرطیکہ ہماری محبت اور عقیدت صرف زبانی دعووں تک محدود نہ رہے، بلکہ ہماری فکر، ہمارے عمل، ہماری تجارت اور ہمارے نظامِ زندگی میں رسولِ عربی کا اسوہ مبارکہ مجسم ہو کر نظر آنے لگے۔