ڈاکٹر سیدہ سمیعہ ولی(انگلینڈ)
آج کا دور خواتین کے لیے بلاشبہ ایک انتہائی چیلنجنگ اور آزمائشوں سے بھرپور دور ہے۔ اکیسویں صدی میں جہاں ٹیکنالوجی اور مادی ترقی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں مغرب کی نام نہاد آزادی، سوشل میڈیا کی یلغار اور جدیدیت کی چکا چوند نے عورت کو اس کے اصل مقام اور فطری ذمہ داریوں سے دور کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ آج کی مسلم خاتون ایک شدید ثقافتی یلغار کی زد میں ہے؛ ایک طرف "فیمنزم" کے نام پر خاندانی نظام سے بغاوت کا درس ہے تو دوسری طرف فرسودہ روایات۔ ان حالات میں مسلم خواتین اکثر اپنی شناخت کے حوالے سے تذبذب اور نفسیاتی انتشار کا شکار نظر آتی ہیں، جس سے نہ صرف ان کا ذاتی سکون متاثر ہو رہا ہے بلکہ پورا معاشرتی ڈھانچہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے پرفتن اور گھٹن زدہ ماحول میں اگر کوئی ہستی خواتینِ اسلام کو فکری اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لا سکتی ہے، تو وہ خاتونِ جنت، جگر گوش رسول، سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ کی سیرت کسی ایک خاص زمانے، خطے یا طبقے کے لیے محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی ہر بیٹی، ہر بیوی اور ہر ماں کے لیے ایک روشن "مشعلِ راہ" ہے۔ رسول اللہ نے آپ کے مقام کا تعین ان الفاظ میں فرمایا’’فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔" یہ سرداری محض خونی نسب کی وجہ سے نہیں بلکہ اس بے مثال کردار، تقویٰ، بصیرت اور قربانیوں کی وجہ سے ہے جس کی پیروی کر کے دنیا کو امن کا گہوارہ اور آخرت کو کامیابی کی نوید بنایا جا سکتا ہے۔
مثالی بیٹی: "امِ ابیہا" کا کردار
سیدہ فاطمہ کی زندگی کے ابتدائی دور پر نظر ڈالیں تو آپ ایک مثالی اور بے نظیر بیٹی کے روپ میں نظر آتی ہیں۔ آپ کی پیدائش اور بچپن ایسے حالات میں گزرا جب اسلام اپنے ابتدائی اور مشکل ترین دور میں تھا۔ مکہ کی گلیاں مسلمانوں کے لیے تنگ کر دی گئی تھیں۔ ایسے میں ایک کمسن بچی کا کردار حیران کن ہے۔ آج کی نوجوان نسل اکثر والدین کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، بدتمیزی یا دوری کا شکار نظر آتی ہے، لیکن سیدہ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ بیٹی والدین کا حقیقی سہارا کیسے بنتی ہے۔ آپ کو "امِ ابیہا" (اپنے باپ کی ماں) کا منفرد لقب دیا گیا۔ یہ لقب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کمسنی کے باوجود، خصوصاً حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد، آپ نے اپنے والدِ گرامی کی خدمت اور دلجوئی ماں کی طرح کی۔ جب مکہ میں کفار نبی پر ظلم کرتے، کبھی راستوں میں کانٹے بچھاتے اور کبھی سجدے کی حالت میں کوڑا کرکٹ اور اوجھڑی پھینکتے، تو یہ ننھی فاطمہ ہی تھیں جو روتی ہوئیں آگے بڑھتیں، والد کی کمر سے غلاظت صاف کرتیں، ان کے زخم دھوتیں اور انہیں دلاسا دیتیں۔ شعبِ ابی طالب کی تین سالہ سخت محصوری کے دوران بھوک اور پیاس کی شدت کو جس صبر سے آپ نے برداشت کیا، وہ آج کی بیٹیوں کے لیے صبر و استقلال کا درس ہے۔ اس کمسنی میں بھی آپ نے کبھی حالات کا شکوہ نہیں کیا بلکہ اپنے عظیم والد کے مشن میں ان کا بازو
بنی رہیں۔ نبی کریم آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور فرماتے’’فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔" یہ گہرا تعلق ہمیں بتاتا ہے کہ والدین کی خدمت، ان کے مشن میں ساتھ دینا، ان کے دکھ سکھ میں شرکت اور ان کا ادب ہی وہ راستہ ہے جو اللہ کی رضا تک لے جاتا ہے۔ باپ کے لیے بیٹی کا بہترین تحفہ مہنگے تحائف نہیں بلکہ اس کی حیا، وقار اور اچھی تربیت کا عملی اظہار ہے۔
مثالی بیوی: قناعت اور سکون کا منبع
شادی کے بعد کی زندگی میں سیدہ فاطمہ کا کردار ہر اس عورت کے لیے ایک کامل نمونہ ہے جو اپنے گھر کو سکون کا گہوارہ اور جنت بنانا چاہتی ہے۔ آپ کی شادی حضرت علی سے انتہائی سادگی اور وقار کے ساتھ ہوئی۔ جہیز میں چند ضروری اشیاء (جیسے ایک بستر، کھجور کی چھال کا تکیہ، پانی کا مشکیزہ، اور چکی) شامل تھیں، جو آج کے نمود و نمائش، برانڈڈ چیزوں کی دوڑ اور بھاری جہیز کے مطالبات کے منہ پر طمانچہ ہے۔ گھر میں فقر و فاقہ تھا، کئی کئی دن چولہا نہیں جلتا تھا، لیکن آپ نے کبھی اپنی غربت کا شکوہ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے شوہر سے ایسی فرمائش کی جو ان کی استطاعت سے باہر ہو۔ آپ جانتی تھیں کہ حضرت علی دین کی خدمت میں مصروف ہیں، اس لیے آپ نے معاشی تنگی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ قرآن مجید میں میاں بیوی کے رشتے کا مقصد سکون بتایا گیا ہے’’ سیدہ حضرت علی کے لیے اسی سکون اور راحت کا باعث تھیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ "اللہ کی قسم! میں نے کبھی فاطمہ کو ناراض نہیں کیا اور نہ انہوں نے کبھی مجھے ناراض کیا، جب میں دن بھر کی مشقت کے بعد گھر آتا اور فاطمہ کے چہرے کو دیکھتا تو میرے سارے غم اور تھکاوٹ دور ہو جاتے۔" یہ باہمی اعتماد اور محبت ہی کامیاب ازدواجی زندگی کی کنجی ہے۔
گھریلو زندگی میں محنت و مشقت کا یہ عالم تھا کہ آپ گھر کا سارا کام خود کرتیں؛ چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے اور پانی کا بھاری مشکیزہ اٹھانے سے سینے اور کمر پر نشان پڑ جاتے۔ ایک موقع پر جب جنگی قیدی آئے اور کام کی زیادتی کی وجہ سے آپ نے نبی سے خادم کی درخواست کی، تو رسول اللہ نے انہیں خادم دینے کے بجائے ایک ایسا تحفہ عطا فرمایا جو دنیا و مافیہا سے بہتر تھا۔ آپ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں خادم سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟" اور پھر "تسبیحِ فاطمی" (۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمدللہ، ۴۳ بار اللہ اکبر) عطا فرمائی۔ سیدہ نے دنیاوی آرام پر اس روحانی نسخے کو ترجیح دی۔ اس واقعے سے آج کی بیوی کو یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ شوہر کی آمدنی پر قناعت کرنا، مشکل وقت میں اس کا بازو بننا اور شکوک و شبہات یا شکوے کے بجائے شکر گزاری کا رویہ اپنانا ہی گھر کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ مزید برآں، گھر کے کام کاج کرنا عیب نہیں بلکہ سنتِ فاطمی ہے، اور اگر کام کے دوران زبان پر ذکرِ الٰہی جاری رہے تو یہ تھکاوٹ اور ڈپریشن کا بہترین علاج ہے۔
مثالی ماں: نسلوں کی آبیاری اور تربیت
ایک ماں کی سب سے بڑی اور اہم ترین ذمہ داری اولاد کی صحیح تربیت ہے، اور اس میدان میں بھی سیدہ فاطمہ کی مثال پوری انسانیت کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ نے حضرت حسن ‘ حضرت حسین اور سیدہ زینب کی ایسی فکری اور روحانی آبیاری کی کہ تاریخ آج تک اس پر ناز کرتی ہے۔ آپ نے بچوں کو نرم گدوں اور مہنگے لباس کا عادی نہیں بنایا بلکہ انہیں اعلیٰ کردار، خودداری اور بہادری کا لباس پہنایا۔ آپ بچوں کو لوری دیتے ہوئے بھی توحید، رسالت اور شجاعت کے اسباق دیتیں۔ آپ نے انہیں بچپن ہی سے سکھایا کہ بھوک میں بھی دوسروں کو کھانا کیسے کھلانا ہے اور ظالم کے سامنے حق بات کیسے کہنی ہے۔
مختصراً اور جامع الفاظ میں یہ کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کی سیرت کوئی پرانا افسانہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی اور دائمی حقیقت ہے جو ہر دور کی عورت کو پکار رہی ہے۔ حقیقی کامیابی اور سکون مغرب کی اندھی تقلید، فیشن پرستی یا مادر پدر آزادی میں نہیں بلکہ اسوہِ بتول کی پیروی میں ہے۔ اگر آج کی بیٹی "نسیبہ" اور خوش قسمت بننا چاہتی ہے تو اسے والدین کے ادب اور فاطمی حیا کو اپنانا ہوگا؛ اگر آج کی عورت اپنے گھر کا سکون اور خوشحالی چاہتی ہے تو اسے فاطمی قناعت اور صبر سیکھنا ہوگا؛ اور اگر آج کی ماں ایک صالح اور بہادر نسل تیار کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی گود کو فاطمی تربیت کا گہوارہ بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں جنت کی ضمانت ہے۔
اللہ رب العزت سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کی خواتین کو سیدہ کائنات کے نقشِ قدم پر چلنے، ان کی حیا کو اوڑھنے اور ان کے کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔