چھٹیاں ختم، تعلیمی ادارے کھل گئے

تعلیمی ادارے آج کھلیں گے،نارووال ،سیالکوٹ اور پاک پتن  کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بندرہینگے
لاہور(کرائم رپورٹر،خصوصی رپورٹ) پنجاب میں موسم گرما کی تعطیلات ختم ہونے پرسرکاری و نجی تعلیمی ادارے آج (یکم ستمبر)سے کھلیں گے۔سیلاب سے متاثرہ اضلاع نارووال ،سیالکوٹ میں5ستمبر تک تعلیمی ادارے مکمل جبکہ دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں جزوی طور پر بند رہیں گے۔پنجاب حکومت نے دریائے ستلج، چناب اور راوی میں بارشوں، سیلاب سے بری طرح متاثرہ ان اضلاع میں سینکڑوں تعلیمی اداروں کی گرمیوں کی تعطیلات میں توسیع کرتے ہوئے بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ان میں ضلع قصور کے 107سکولز غیر معینہ مدت تک ، حافظ آباد کے 145سکولز بھی 5ستمبر تک، اوکاڑہ کے 32 دیہات کے سکولز7 ستمبر تک، مظفر گڑھ کے 105 سکولز 6ستمبر تک ، پاکپتن کے 30سکولز، شیخوپورہ میں شرقپور کے 10سکولز ،چنیوٹ میں 88سکولز غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ پنجاب یونیورسٹی نیبھی تعلیمی سرگرمیاں ایک ہفتے تک معطل کرتے ہوئے جامعہ کو ستمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لاہور کیریلیف کیمپوں میں تبدیل کئیگئے 45 سکولز کے سوا تمام سرکاری و نجی سکولز آج ( پیر)یکم ستمبر سے گرما تعطیلات ختم ہونے پر دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کریں گے۔ تمام متاثرہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشنز جاری کردئیے۔ تفصیل کے مطابق قصور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد کھلنے والے سکولوں کو تا حکم ثانی بند رکھنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنرقصور کے حکم پر چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن نے 107 سکول بند رکھنے کا مراسلہ جاری کیا۔ اس کے مطابق تحصیل قصور کے 61 سرکاری اور ایک غیر سرکاری، چونیاں کے 14 جبکہ پتوکی کے 31 سکول سیلابی پانی کی وجہ سے بند رکھے جائیں گے۔نارووال میں حالیہ شدید بارشوں اورسیلابی صورتحال کے باعث تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے یکم ستمبر سے پانچ ستمبر تک بند رہیں گے۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر سید حسن رضا نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ اسی طرح پاکپتن میں دریائے ستلج کے سیلاب سے متاثرہ 30 سکولوں کو بند کرنے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔ سی ای او ایجوکیشن پاکپتن شازیہ رفیق نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا کہ بند کئے گئے سکولوں میں 18 سکول پاکپتن شہر اور 12 سکول تحصیل عارفوالا کے شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کے مطابق تحصیل شرقپور کے 10 سکول سیلابی پانی کے خطرے کے باعث بند رہیں گے۔ ضلع چنیوٹ میں سیلاب سے 88 سکول متاثر ہونیپر بند کئے گئے ہیں جن میں 10 سکول چنیوٹ، 33 لالیاں اور 45 بھوانہ کے شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ کا کہنا ہے کہ اوکاڑہ میں دریائے ستلج و راوی کے سیلاب سے متاثرہ 32 دیہات کے اسکول 7 ستمبر تک بند رہیں گے۔چھٹیوں میں توسیع کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے جاری کیا۔ مظفرگڑھ میں دریائے چناب سے سیلاب کیخطرہ کے پیش نظر ضلع بھر کے 105 اسکول بند کر دیے گئے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنرمظفر گڑھ نے بتایا کہ دریائے چناب کے سیلاب سے 89 سرکاری اسکولوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے 105 سرکاری اسکول 6 ستمبر تک بند رہیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ 16 اسکول فلڈ ریلیف کیمپس کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ باقی تمام سرکاری اسکول یکم ستمبر سے کھلیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی نے بھی تعلیمی سرگرمیاں ایک ہفتے کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق لاہور سمیت دیگر شہروں میں قائم تمام کیمپس میں کلاسز لینا مشکل ہو گیا ہے۔ بارشوں اور سیلاب کے باعث طلبہ اور اساتذہ کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر جامعہ پنجاب نے یکم سے 7 ستمبر تک تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ترجمان پنجاب یونیورسٹی نے کہا کہ اس دوران یونیورسٹی میں ’’ زیرو ویک‘‘ ہوگا، تاہم ہاسٹلز میں الاٹمنٹ کا عمل جاری رہے گا۔ داخلہ جات اور دیگر انتظامی سرگرمیاں بھی حسب معمول انجام دی جائیں گی۔جامعہ پنجاب میں باقاعدہ کلاسز کا آغاز 8 ستمبر سے ہو گا۔ادھر لاہور کے 45 سکولوں کے سوا تمام سکولز آج ( پیر)یکم ستمبر سے دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع کریں گے۔ڈی سی لاہور سید موسی رضا نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیاجس میں کہا گیا ہے کہ لاہور کے 33 سرکاری اور 12 نجی سکول بند رہیں گے، سیلابی صورتحال کے پیش نظر بند کئے گئے 45 سکولز ریلیف کیمپس میں تبدیل کئے گئے ہیں۔