سیلاب سے ،00 22 دیہات زیرآب لاکھ افراد متاثر، مزید 22 جاں بحق، بہاولپور میں 7بند ٹوٹنے سے تباہی،سندھ میں کچے کا پورا علاقہ ڈوبنے کا خدشہ
بھارت نے طلاع نہیں دی ترجمان پی ڈی ایم اے،گوجرانوالہ، سیالکوٹ،وزیرآباد ،گجرات ،خانکی میں سیلاب سے نمٹنے کی تیاری نمٹنے کی تیاریاں
چناب ، راوی اور ستلج میں سپر فلڈ کی صورتحال ، ریلے جنوبی پنجاب میں داخل ، ملتا ن کو بچانے کیلئے ہیڈ محمد والا اور شیرشاہ بند توڑنے کی تیاری ، کئی شہروں سے لوگوں کی منتقلی، سندھ میں کچے کا پورا علاقہ ڈوبنے کا خدشہ
لاہور ،ملتان،سیالکوٹ (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت نے سلال ڈیم کے سارے گیٹ کھول کر دریائے چناب میں ایک اوربڑا 8لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلاھوڑ دیا ،جس سے بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے ،ہائی الرٹ جاری کردیاگیا،2200دیہات تاحال زیرآب ہیں اوردریائے ستلج کے ریلوں سے بہاولپور میں 7 بند ٹوٹ گئے،ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرِ آب اور پانی دیہاتوں میں داخل ہوگیا،ملتان کی 138بستیاں زیرآب آگئیں ،پنجاب سے تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جس سے اگلے 24 گھنٹوں میں ملتان اور خانیوال سمیت مختلف اضلاع کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 22افراد جاں بحق ہوگئے راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے ۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ ستلج ہریکے کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ ملی ہے تاہم سلال ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کے معاملے پر اب تک بھارت کی جانب سے کوئی آفیشل اطلاع نہیں ملی۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی آبی جارحیت جاری ہے، بھارت نے ایک اور بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا جس کے بعد پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا،دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں کو مزید خطرہ بڑھ گیا ہے ، 8 لاکھ کیوسک پانی کا بڑا سیلابی ریلا سلال ڈیم سے چھوڑا گیا،سلاڈیم کے تمام سپیل ویز کھول دئیے گئے ، بھارت سے آنے والا سیلابی ریلہ 2 روز بعد ہیڈ مرالہ پہنچ جائے گا،انتظامیہ کی جانب سے گوجرانوالہ، سیالکوٹ،وزیرآباد ،سمبڑیال ،گجرات ،ہیڈ مرالہ ،خانکی سے ملحقہ علاقوں میں شہریوں کے انخلا کیلئے مساجد میں اعلانات کئے جا رہے ہیں اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔راوی، چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جس سے سینکڑوں دیہات تاحال سیلابی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، پاک فوج سمیت وفاقی و صوبائی اداروں کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور گزشتہ روز بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ،پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارش نے سیلاب میں ڈوبے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر، بستی یوسف، احمد والہ کھوہ سمیت 7 بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرِ آب آ گئیں۔خیر پور ٹامیوالی کے قریب قاسم والا بند ٹوٹنے سے کئی دیہات زیرِ آب آ گئے،متاثرین اور مویشیوں کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقلی جاری رہی۔مظفر گڑھ میں دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو نے لگا، بیشتر لوگ ریلیف کیمپوں میں منتقل نہیں ہوئے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے جھنگ کے درجنوں گائوں زیرآب آگئے ، گائوں جنگران میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور متاثرین اور مویشیوں کی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے تاہم سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔دریائے راوی میں مل فتیانہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلابی ریلے کے باعث کمالیہ اور پیر محل کے 52 دیہات متاثر ہوئے۔ہیڈتریموں سے 4لاکھ 97ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا دریائے چناب میں داخل ہوگیا ،اونچے درجے کے سیلاب سے 138بستیاں زیرآب آگئیں جبکہ ملتان شہر کو بچانے کیلئے پاک فوج نے ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالنے کیلئے کنٹرول سنبھال لیا ہے،شیر شاہ بند پر بھی بارودی مواد نصب کردیاگیا۔سیلاب قاسم بیلا کی بستیوں اور جھوک وینس میں سینکڑوں مکانات سمیت ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی کپاس کی فصل بہا لے گیا۔ خانیوال سے کنڈ سرکانہ کے مقام سے دریائے راوی کا چالیس ہزار کیوسک ریلا بھی دریائے چناب میں شامل ہوگیا۔ متاثرہ بستیوں سے چار لاکھ متاثرین کے انخلا کو یقینی بنانے کیلئے84 خیمہ بستیاں اور فلڈ ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں ۔ کمشنر عامر کریم خان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ چناب میں چار لاکھ ستانوے ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے ،دریا میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ضلع ڈیرہ غازی خان میں سیلابی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے تاہم کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضلعی انتظامیہ فیلڈ میں متحرک اور تمام ادارے الرٹ ہیں۔تحصیل احمد پور سیال میں باہو پل کو پانی کے دبائو سے بچانے کیلئے شگاف ڈال دیا گیا ہے ۔پنجاب کے مختلف شہروں میں کئی گھنٹوں سے جاری موسلادھار بارش نے سیلاب میں ڈوبے متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا، متعدد علاقے بجلی سے محروم ہو گئے، کئی جگہ پانی جمع ہونے سے وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بھارت کی جانب سیدریائے ستلج پر ہریکے میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیاتاہم دریائے چناب یا دیگر دریائوں میں پانی چھوڑے جانے کی کوئی آفیشل وارننگ ابھی تک نہیں ملی جبکہ سلال ڈیم کے سپیل ویز کھولے جانے کی بھی کوئی آفیشل انفارمیشن شیئر نہیں کی گئی۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے دریائے ستلج، راوی ،چناب اور ملحقہ ندی نالوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیاجس کے مطابق یکم سے 5 ستمبر تک دریائے راوی، ستلج اور چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہاکہ پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جن اضلاع سے سیلابی ریلا گزر چکا ہے وہاں پر ہمارا سارا فوکس متاثرین کی مدد کرنے پر ہے۔ متاثرہ علاقوں سے ساڑھے 7 لاکھ افراد کا انخلا کیا، پنجاب میں سیلاب کے باعث 2200 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے، متاثرین کے جانوروں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کیلئے بیڑوں کا انتظام بھی کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بارشوں کے نئے سپیل سے بھی تباہی ہوئی اور بارش کی وجہ سے اربن فلڈنگ کی صورتحال سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے واقعات سے ہلاکتوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے۔ دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر پانی میں کمی آ رہی ہے جبکہ راوی میں شاہدرہ کے مقام پر صورتحال نارمل ہورہی ہے ، پاکپتن، بہاولنگر، وہاڑی میں کل تک ایک لاکھ 35 ہزار کیوسک پانی پہنچے گا، ہیڈسلیمانکی پر پانی بڑھ رہا ہے،آج شام تک بلند ترین سطح پر ہوگا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیلاب سے متاثرہ پنجاب کے 6 اضلاع میں ریلیف راشن کی فراہمی کا منصوبہ تیار کر لیا۔ عرفان علی کاٹھیا کاکہناتھاکہ دریائے سندھ اور دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب کے باعث ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویڑن میں 4 لاکھ 78 ہزار 270 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 5 لاکھ 14 ہزار 434 ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا، صرف ڈیرہ غازی خان ڈویڑن میں دریائے سندھ کے سیلاب سے 2 لاکھ 67 ہزار 683 ایکڑ زمین زیر آب آ گئی۔ دوسری طرف قصور کے علاقے میں بارش سے چھتیں گرنے کے واقعات میں رنگ پورکا 50سالہ منیر اورکنگن پور کا 16سالہ عامر جاں بحق ہوگئے،ایک اور واقعہ میں 16سالہ عمران چل بسا جبکہ اس کی والدہ اور بہن زخمی ہوگئیں ۔ فتوکی میں محنت کش نیامت علی لقمہ اجل بن گیا۔ سرحدی گائوں باقر کے جھگیاں میں خستہ حال مکان کی چھت گر گئی۔ ملبے تلے دب کر دو بچے 10 سالہ ذیشان اور 12 زینب جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ننکانہ صاحب کے نواح میں کوٹ اکبر گائوں میں بارش سے مکان کی چھت گرنے 45سالہ خاتون کوثر اور 2بچیاں 8سالہ عائشہ اور 12سالہ ثمرہ جاں بحق ہوگئیں ،3افراد زخمی ہوئے۔ وزیرآباد اور سیالکوٹ کے سرحدی گائوں چائو کے کلاں کا 60 سالہ رہائشی احسان اللہ اور ان کا بھائی امان اللہ سیلابی ریلے کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئے۔ نالہ پلکھو کے سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے ماں بیٹے کی لاشیں تین دن بعد نکال کران کی تدفین کردی گئی۔چنیوٹ میں بارش کے باعث کمرے کی چھت 80 سالہ خاتون اللہ جوائی جاں بحق ہوگئیں ،محلہ احمد نگر میں طالب علم علی حسن ،65سالہ عمر حیات اور45سالہ نوشیر سیلابی ریلے میں بہہ کرموت کے منہ میں چلے گئے۔خیبرپختونخوا میں بارش سے گزشتہ روز 5ہلاکتیں ہوئیں ،پشاور میں 2 بچے جاں بحق ہوئے، ایک بچہ برساتی نالے میں بہہ گیا ، 3 ماہ کا شیر خوار چھت گرنے سے جاں بحق ہوا۔جنوبی وزیرستان کے بالائی علاقے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد چھت گرنے سے جاں بحق ہوئے جن میں 2 بچے اور ایک خاتون شامل ہیں۔ دریائے چناب پر ہیڈ ورکس خانکی میں پانی کا بہائو 2 لاکھ 15 ہزار 615 کیوسک ہے، صورتحال مستحکم ہے جبکہ ہیڈ ورکس قادرآباد میں پانی کا بہائو 2 لاکھ 3 ہزار 862 کیوسک ہے اور بہائو میں کمی ہو رہی ہے۔ ہیڈ ورکس تریموں میں پانی کا بہائو 2 لاکھ 99 ہزار 196 کیوسک ہے اور بہائو میں اضافہ ہو رہا ہے۔دریائے راوی پر جسر کے مقام پر پانی کا بہائو 93 ہزار 360 کیوسک ہے جس سے صورتحال مستحکم ہے۔ سائفن اورشاہدرہ کے مقام پر بہائو میں کمی جاری ہے۔ہیڈ ورکس بلوکی اور ہیڈ ورکس سدھنائی میں صورتحال مستحکم ہے۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا ،ہیڈ ورکس سلیمانکی،ہیڈ ورکس اسلام اورہیڈ ورکس پنجند میں صورتحال مستحکم ہے۔