لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں بجلی چوری چھپانے اور اوور بلنگ کا نیا فارمولا سامنے آگیا ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سولر سسٹم لگوانے والے صارفین کو بڑے پیمانے پر فراڈ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان صارفین کے ایکسپورٹ یونٹس غائب کر کے لاکھوں روپے کے بلز بھیج دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق لیسکو نے صارفین کے بلوں میں صرف امپورٹ یونٹس کی ریڈنگ شائع کی، جبکہ نیٹ میٹرنگ سسٹم کے تحت بلنگ امپورٹ اور ایکسپورٹ یونٹس کی بنیاد پر ہونی چاہیے تھی۔ صارفین نے نیٹ میٹرنگ پراجیکٹ کے تحت سولر سسٹم پر کنکشن حاصل کیے تھے اور بائی ڈائریکشنل میٹر نصب کیے گئے تھے تاکہ بجلی کی پیداوار اور استعمال کا درست حساب لگایا جا سکے۔تاہم، کمپنی نے مبینہ طور پر لائن لاسز کا ریکارڈ درست دکھانے کے لیے صرف امپورٹ یونٹس پر بلنگ کی اور ایکسپورٹ ہونے والے یونٹس کو شمار ہی نہیں کیا۔ اس اقدام کو نیپرا قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے تحت صارفین کو بجلی کے امپورٹ اور ایکسپورٹ دونوں یونٹس کے حساب سے بلنگ ہونی چاہیے تھی۔ نیپرا نے صارفین کو سولر سسٹم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے باضابطہ لائسنس جاری کر رکھے ہیں، جبکہ لیسکو نے بھی 25 کلوواٹ تک منظور شدہ لوڈ پر جنریشن لائسنس دیے ہوئے ہیں۔صارفین کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف ان کے ساتھ مالی زیادتی ہے بلکہ حکومتی پالیسیوں اور نیپرا کے جاری کردہ قواعد کی بھی خلاف ورزی ہے۔ اس حوالے سے نیپرا اور متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ متاثرہ صارفین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔