غزہ : اسرائیلی حملے،77 فلسطینی شہید، بھوک کی شدت سے مزید 10 چل بسے

اسرائیلی فوج کا غزہ پر تازہ حملے میں حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کو نشانہ بنانے کا دعوی
غزہ، تل ابیب، نیویارک (آئی این پی ) غزہ پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملوں میں مزید 77  فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا جن میں امداد کے منتظر 19 افراد بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے ۔عرب میڈیارپورٹ کے مطابق غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ سٹی کے مختلف علاقوں میں شدید بمباری جاری ہے، جس کے بعد ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ رافہ میں ریڈ کراس اسپتال کے مطابق 31 مریضوں کو گولیوں کے زخموں کے ساتھ لایا گیا جن میں سے 4 موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ لوگ خوراک کے مراکز کے قریب گولیوں کا نشانہ بنے۔اسرائیل نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ اس کے حملے حماس کے ٹھکانوں اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک رہائشی عمارت کی پہلی اور دوسری منزل پر حملہ کیا اور اس حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ کو نشانہ بنایا گیا تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی۔جبکہ حماس نے غزہ میں ملٹری چیف محمد سنوار کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ حماس نے اسرائیلی بیان کے چند ماہ بعد تصدیق کی ہے جس میں تل ابیب نے کہا تھا کہ محمد سنوار کو مئی میں ایک حملے میں مار دیا تھا۔حماس نے محمد سنوار کی موت کے حوالے سے تفصیل نہیں جاری کی۔محمد سنوار، حماس کے سربراہ یحی سنوار کے چھوٹے بھائی تھے جو گزشتہ سال اکتوبر میں اسرائیلی فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔7 اکتوبر 2023 کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شہدا کی مجموعی تعداد 63 ہزار 371 ہوگئی جبکہ ایک لاکھ 59 ہزار 835 افراد زخمی ہوچکے ہیں