ان کی زندگی کا پیغام قومی قیادت کی اصل کامیابی اقتدار کا حصول نہیں تھا ،مقررین
مہمان خصوصی وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر‘ پروفیسر ڈاکٹر الماس خانم تھیں
لاہور(پ،ر)شہید ملت لیاقت علی خان کا سیاسی کردار اور طرز حکمرانی حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے،انہوں نے پاکستان کے ابتدائی دنوں میں ریاست کی بقا،قومی وحدت اور سیاسی نظام کی تشکیل کیلئے کام کیا،ان کی زندگی کا اہم پیغام یہ ہے کہ قومی قیادت کی اصل کامیابی اقتدار کا حصول نہیں بلکہ قومی مفاد کا تحفظ،آئینی بالا دستی اور عوم کی خدمت میں مضمر ہے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوان اقبال کمپلیکس کے زیراہتمام پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی 75 ویں برسی کے موقع پر تقریب کے دوران کیا،سینئر صحافی سلمان غنی کی صدارت اور ایڈمنسٹریٹر ایوان اقبال انجم وحید کی میزبانی میں ہونے والی تقریب کے مہمان خصوصی وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر جبکہ مہمان مقرر ایسوسی ایٹ پروفیسر جی سی یو لاہور ڈاکٹر الماس خانم تھیں۔ نظامت کے فرائض اقبال ینگ اسکالر زید حسین نے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز قاری سعد افضل کی تلاوتِ قرآنِ مجید سے ہوا، جبکہ محمد حارث ملک نے کلامِ اقبال پیش کیا۔اس موقع پر طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام کی کثیر تعداد موجود تھی,شہیدِ ملت لیاقت علی خان کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور قومی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی تصویری نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا۔ وائس چانسلر یو ای ٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے دیگر معزز مہمانوں کے ہمراہ نمائش کا افتتاح کیا اور اس میں رکھی گئی تاریخی تصاویر کا مشاہدہ کیا۔ نمائش کا مقصد نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ اور تحریکِ پاکستان کی اہم شخصیات کی خدمات سے روشناس کرانا تھا۔مہمان خصوصی ڈاکٹر شاہد منیر نے اپنے خطاب میں کہا شہیدِ ملت لیاقت علی خان تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما اور قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی تھے۔ ان کی سیاسی زندگی کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ وہ محض تحریکِ پاکستان کے قائدین میں شامل نہیں تھے بلکہ انہیں قانون ساز اداروں میں کام کرنے، پارلیمانی جماعت کی تنظیم، مالیاتی امور پر بحث اور ملک کے آئینی مستقبل سے متعلق معاملات میں عملی تجربہ بھی حاصل تھا۔ ان کی سیاسی جدوجہد اور پارلیمانی خدمات پاکستان کی تاریخ کا اہم باب ہیں۔وائس چانسلر نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد لیاقت علی خان کو ایک نئی ریاست کے انتظامی و آئینی ڈھانچے کی تشکیل جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا تھا۔ انہوں نے وزارتِ عظمیٰ کے دوران ریاستی اداروں کے استحکام اور آئینی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کیا۔ قراردادِ مقاصد کی پیش کش اور اس کی منظوری پاکستان کی آئینی تاریخ کا ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔ ان کی زندگی اور خدمات کا مطالعہ نئی نسل کو قومی تاریخ، جمہوری اداروں اور پارلیمانی روایات کی اہمیت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔سینئر صحافی سلمان غنی نے اپنے خطاب میں کہا شہید ملت لیاقت علی خان کا سیاسی کردار اور طرز حکمرانی حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے ،شہید ملت کی زندگی کا اہم پیغام یہ ہے کہ قومی قیادت کی اصل کامیابی اقتدار کا حصول نہیں بلکہ قومی مفاد کا تحفظ،آئینی بالا دستی اور عوم کی خدمت میں مضمر ہے۔ان کا کہنا تھا لیاقت علی خان جیسی قیادت نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ وہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کے اصل نمائندہ ہیں،لیاقت علی خان نے جاگیر دار ہونے کے باوجود پاکستان میں ایک انچ بھی زمین نہیں لی،پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کیلئے ہمیں قائد اعظم،علامہ اقبال اور لیاقت علی خان کے افکار پر چلنا ہو گا،نوجوان نسل کو ہر قسم کے تعصبات سے نکلنا ہو گا،پاکستان میں اس سیاسی پختگی کی ضرورت ہے جس کی بنیاد لیاقت علی خان نے رکھی۔ڈاکٹر الماس خانم نے اپنی گفتگو میں کہا شہید ملت نے اپنی تمام تر زندگی تحریک پاکستان اور ملک کیلئے وقف کر رکھی تھی،انہوں نے تمام تر مسائل کے باوجود نوزائیدہ مملکت کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کی،لیاقت علی خان ،قائد اعظم کے دماغ تھے۔